خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 221 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 221

۲۱۸ ا۔مغربی جرمنی ۲۔سوئٹزرلینڈ ۳۔آسٹریا ۴۔ڈنمارک ۵۔سویڈن ۶۔ناروے ے۔ہالینڈ - انگلستان و سپین ۱۰۔نائیجیریا اا۔غانا ۱۲۔کینیڈا ۱۳۔امریکہ آپ کا آخری خطاب ۶ رمئی ۱۹۸۲ء کو حضور نے ربوہ میں آخری خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور ۲۳ رمئی کو حضور اسلام آباد تشریف لے گئے۔حضور کی علالت اور وصال قیام اسلام آباد کے دوران ۲۶ رمئی ۱۹۸۲ء کو حضور پر نور کی طبیعت علیل ہوگئی۔بروقت علاج سے بفضل تعالیٰ افاقہ ہو گیا لیکن ۳۱ مئی کو اچانک طبیعت پھر خراب ہوگئی۔ڈاکٹری تشخیص سے معلوم ہوا کہ دل کا شدید حملہ ہوا ہے۔علاج کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور ۸ / جون تک صحت میں بتدریج بہتری پیدا ہوتی گئی لیکن ۱۹۷۸ جون یعنی منگل اور بدھ کی درمیانی شب پونے بارہ بجے کے قریب دل کا دوبارہ شدید حملہ ہوا اور بقضائے الہی پونے ایک بجے شب ” بیت الفضل اسلام آباد میں آپ اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۱۹ جون ۱۹۸۲ء کو حضور کا جسدِ اطہر اسلام آباد سے ربوہ لایا گیا۔۱۰ رجون کو سیدنا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفتہ اسیح الرابع نے بعد نماز عصر احاطہ بہشتی مقبرہ میں نماز جنازہ پڑھائی جس میں ایک لاکھ کے قریب احباب شریک ہوئے۔نماز جنازہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کے پہلو میں جانب شرق حضور کی تدفین عمل میں لائی گئی۔حضور نوراللہ مرقدہ نے ۷۳ سال عمر پائی۔