خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 81
۸۰ ہیں۔وہ خوف خواہ منافقت کا ہو یا عداوت کا، جنگ کا ہو یا سیاست کا ، کسی گروہ کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے، جماعت مومنین ہر حال میں خلافت امن کا نشان اور سلامتی کی ضمانت ہے۔بڑی سے بڑی حکومت اور قوی سے قوی طاقت بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ ؟ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا اس پر سند ہے اور اس پر تاریخ کی عملی شہادت یہ ہے کہ جو حکومت بھی خلافت حقہ سے ٹکرائی ، وہ پاش پاش ہوگئی۔یہی وہ ضمانت ہے جس کی بناء پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ببانگ دہل یہ اعلان فرمایا تھا کہ : وو مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اور کوئی شخص نہیں جو میرا مقابلہ کر سکے۔اگر تم میں کوئی ماں کا بیٹا ایسا موجود ہے جو میرا مقابلہ کرنے کا شوق اپنے دل میں رکھتا ہے تو وہ اب میرے مقابلہ میں اُٹھ کر دیکھ لے۔خدا اس کو ذلیل اور رسوا کرے گا بلکہ اسے ہی نہیں اگر دنیا جہان کی تمام طاقتیں مل کر بھی میری خلافت کو نابود کرنا چاہیں گی تو خدا ان کو مچھر کی طرح مسل دے گا۔اور ہر ایک جو میرے خلاف بولے گا وہ خاموش کرایا جائے گا اور جو مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ خود ذلیل و رسوا ہو گا۔“ پھر آپ اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو بھی یہی بشارت دی کہ : 66 (خلافت راشدہ۔انوار العلوم جلد ۱۵ صفحه ۵۹۲) میں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہوجائے گا تو۔۔۔۔اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔خلافت فقه اسلامیه صفحه ۱۸ مطبوعه الشرکت الاسلامیدر بوه) خلافت حقہ کے ساتھ وابستہ اسی تقدیر الہی کو یاد کراتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الرابع ” بیان فرماتے ہیں : جس طرح اس احرار موومنٹ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت