خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 435
۴۳ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ ہاتھ دالنے کی دشمن کو توفیق عطا فرمادے جس جماعت کو اپنے دین کے احیاء کی خاطر قائم کیا ہے۔یہ تو ہو ہی نہیں سکتا تھا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ انتظام فرمایا کہ اس ایک تدبیر کو نا کام کر کے دشمن کی ہر تد بیر نا کام کردی۔خدا تعالیٰ کا اتنا بڑا احسان ہے کہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ کتنے خوفناک نتائج سے اللہ تعالیٰ نے جماعت کو بچالیا کتنی بڑی سازش کو کلیہ نا کام کر دیا۔از خطبه جمعه فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۳ ء بمقام پیرس فرانس) دشمن کی یہ خوفناک سازش جو ایک حکومت کی تمام طاقت کو استعمال کر کے خلافتِ احمدیہ کو مٹانے کے لئے تیار کی گئی تھی، خدا تعالیٰ کی تقدیر کے ساتھ ٹکرا کر مردود اور ناکام و نامراد ہوگئی۔خلافتِ احمدیہ کی تاریخ شاہد ہے کہ ہر مخالفت جو خلافت کو تباہ کرنے کے لئے اٹھی ، آپ اپنی موت مرگئی اور جماعت کو ترقیات کے نئے سنگ میل مہیا کر گئی۔۱۹۳۰ ء کے دہا کہ میں احرار جب مخالفت کے لئے اُٹھے تو خدا تعالیٰ نے جماعت کو تحریک جدید کے عظیم الشان انعام سے نوازا جس کے ذریعہ احمدیت بیرونی دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلی۔اب پھر احرار نے سر اٹھایا اور خلافت کو زائل کرنے کے لئے اوچھے ہتھیاروں پر اترے تو خدا تعالیٰ نے نہ صرف خلافت کی حفاظت کی بلکہ جماعت کو ہر بڑ اعظم میں بے بہا برکتوں سے معمور بیبیوں مراکز کے تھے عطا فرمائے۔اس پس منظر میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے خلافت کی راہ میں آئندہ آنے والی بڑی بڑی مخالفتوں، ان کے انجام اور ان کے نتیجہ میں جماعت احمد یہ پر خدا تعالیٰ کے افضال و انعامات کے نزول کی خبر دیتے ہوئے نا قابل تسخیر عزم کے ساتھ پر شوکت اعلان فرمایا کہ: اس دفعہ بھی احرار ہی کا دور ہے۔۔۔۔۔بظاہر وہ احمدیت کی موت کے ترانے الاپ رہے ہیں لیکن میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ اپنی موت کے گانے گا رہے ہیں۔اس کے سوا اور کوئی آواز نہیں ہے جو اُن کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔