خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 436 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 436

۴۳۲ احمدیت کی صف لپیٹنے والا کسی ماں نے کوئی بچہ نہیں جنا، نہ پہلے تھا، نہ آج ہے، نہ آئندہ کبھی ہوگا۔یہ وہم و گمان اگر کسی دماغ سے گزر رہا ہے تو ایک پاگل کی بڑسے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔چنانچہ تحریک جدید کے اس دور کی طرف میں واپس لے کے جاتا ہوں جب یہی مجلس احرار بڑے بڑے نعرے بلند کر رہی تھی کہ قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔منارۃ اسیح کو اور ان کی مسجدوں کو منہدم کر دیں گے۔کوئی نام لیوا نہیں رہے گا مرزا غلام احمد قادیانی کا۔اُس وقت حضرت مصلح موعود نے خطبہ میں یہ اعلان کیا کہ میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔اور چند ہفتے کے اندر اندر ایسی کایا پلٹی کہ سارے پنجاب سے احرار کی صف لپٹتی ہوئی دکھائی دینے لگی اور احمدیت اس کے مقابل پر بڑی شان و شوکت کے ساتھ اُبھری۔اور وہی تحریک جدید ہے جس کا سایہ آج ساری دنیا پر قائم ہو چکا ہے۔پس بظاہر تو ایک نہایت ہی ادنی غلام اور حقیر انسان جو خلافت کے منصب پر اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے نتیجہ پر فائز کیا جاتا ہے اس کا کلام ہوتا ہے۔بظاہر تو اس کی زبان بات کرتی ہے لیکن ہمارا تجربہ یہ ہے کہ اس کی بات کے پیچھے خدا کی بات کارفرما ہوتی ہے اور جماعت احمدیہ کے لئے عظیم الشان خوشخبریاں رکھ دی جاتی ہیں۔جس طرح اس احرار موومنٹ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر بے انتہا فضلوں کی بارشیں برسا دی تھیں، میں یہ کامل یقین رکھتا ہوں کہ اس احرار موومنٹ کے نتیجہ میں بھی اتنی عظیم الشان رحمتیں اللہ تعالیٰ کی جماعت پر نازل ہوں گی جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہ جماعت آج ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬