خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 395
۳۹۱ ہیں۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۳) ایک خلیفہ ہوگا جو امام ہوگا۔دو وجود بطور خلیفہ الگ الگ منصبوں پر فائز نہیں ہوں گے۔" حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر تو ابتداء میں صرف تین آدمیوں نے بیعت کی تھی یعنی حضرت عمرؓ، حضرت ابوعبید گانے مہاجرین میں سے اور قیس بن سعد نے انصار میں سے اور بیعت کے وقت بعض لوگ تلواروں کے ذریعہ سے بیعت کوروکنا چاہتے تھے اور پکڑ پکڑ کر لوگوں کو اٹھانا چاہتے تھے اور بعض ایسے پُر جوش تھے کہ طعنہ دیتے تھے اور بیعت کو لغو قرار دیتے تھے۔تو کیا اس کا یہ نتیجہ سمجھنا چاہئے کہ نعوذ باللہ حضرت ابو بکر کو خلافت کی خواہش تھی کہ صرف تین آدمیوں کی بیعت پر آپ بیعت لینے کے لئے تیار ہو گئے اور باوجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے۔یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت ناجائز تھی۔جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔پس جبکہ ایک شخص کی دو ہزار آدمی بیعت کرتے ہیں اور صرف چند آدمی بیعت سے الگ رہتے ہیں تو کون ہے جو کہہ سکے کہ وہ خلافت نا جائز ہے۔اگر اس کی خلافت نا جائز ہے تو ابو بکر، عثمان وعلی اور نور الدین رضوان اللہ علیہم کی خلافت اس سے بڑھ کرنا جائز ہے۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۶،۱۵) خلیفہ ایک ہی ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ مومنوں کے انتخاب سے قائم فرماتا ہے۔کسی شخص کا اپنے خود ساختہ استدلال اور بہکے ہوئے خیالات کے تحت کسی کو کسی قسم کا خلیفہ قرار دے دینا اسے خلافت کا منصب عطا نہیں کرسکتا۔بالآخر ایک حتمی فیصلہ ارشاد فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور خلیفہ مقرر کریں۔اگر وہ یہ