خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 396
۳۹۲ چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے اور شریعت اسلام اسے قطعاً حرام قرار دیتی ہے۔پس اب وہ جو کچھ بھی کریں گے اس سے جماعت میں تفرقہ پیدا کریں گے۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں۔یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا۔مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ورنہ ہر ایک شخص جو اس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۷) پس معترض کے ایسے وساوس کہ بیک وقت ایک ظاہری خلیفہ اور ایک باطنی خلیفہ ہو، قطعی طور پر شریعت اسلامیہ کے خلاف اور حرام ہیں۔خلاصه کلام یہ پر معارف تحریرات واضح طور پر یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ جماعت احمدیہ میں خلافت راشدہ کا قیام ہوگا جو علی منہاج النبوۃ ہوگی۔ہر خلیفہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ خلیفہ راشد ہوگا۔یہ خلافت آیت استخلاف کی مصداق ہوگی جو تا قیامت جاری رہے گی۔حضرت ابو بکر اور حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی مثال پر ایک وقت میں خلیفہ ایک ہی ہوگا جو