خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 325
پہلی حرکت انہی کے دل میں پیدا کی اور انہوں نے آج سے قریباً دو سال پہلے آنے والی خوشی کی گرمی کو محسوس کر کے اس تجویز کی داغ بیل رکھی کہ حضرت خلیفہ اسیح ثانی کی خلافت کے پچیس سال پورے ہونے پر جماعت کی طرف سے خوشی اور شکر کے اظہار کے لئے ایک تقریب کی صورت پیدا کی جائے اور اس مبارک تقریب پر جماعت اپنی طرف سے کچھ رقم (چوہدری صاحب نے تین لاکھ روپے کی رقم تجویز کی) حضرت علیہ اسح ثانی کی خدمت میں اس درخواست کے ساتھ پیش کرے کہ حضور اس رقم کو جماعت کی طرف سے قبول کر کے جس مصرف میں پسند فرمائیں کام میں لائیں۔۔۔مگر جس غرض کے لئے میں نے اس ذکر کو اس جگہ داخل کیا ہے وہ سیہ ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح ثانی کو اس سلسلہ میں بھی جماعت کی تربیت کا از حد خیال ہے۔چنانچہ آپ متعدد مرتبہ جماعت کو نصیحت فرما چکے ہیں کہ اگر یہ تقریب محض رسم کے طور پر ہے اور دنیا کی نقل میں ایک قدم اٹھایا جارہا ہے تو اس میں میری خوشی کا کوئی حصہ نہیں اور نہ میں اس صورت میں جماعت کو اس کی اجازت دے سکتا ہوں۔لیکن اگر آپ لوگوں نے اسے دنیا کی رسومات اور دنیا کی نمائشوں کے طریق سے پاک رکھ کر ایک خالص دینی خوشی کا رنگ دینا ہے اور اسے ان عیدوں کی طرح منانا ہے جس طرح اسلام اپنی عیدوں کے منانے کا حکم دیتا ہے تو اس قسم کا جو قدم بھی اٹھایا جائے وہ مبارک ہے اور میں اسے روکنا نہیں چاہتا۔“ خلافت ثانیہ کی جو بلی کی تحریک (سلسلہ احمدیہ صفحہ ۴۲۷ تا ۴۲۹ مطبوعه نظارت تالیف و تصنیف قادیان (۱۹۳۹ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد نے اُس جو بلی کا جو مختصر نقشہ پیش فرمایا ہے۔اس کی تفصیل