خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 326 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 326

۳۲۲ یہ ہے کہ حضرت خلیفہ اسی الثانی کے دور خلافت پر ۱۹۳۹ء میں پچیس سال پورے ہورہے تھے۔اس کے مد نظر ( غالباً ماہ اکتوبر یا نومبر ( ۱۹۳۷ء میں حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خان کے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ دنیا میں عام رواج ہے کہ سلور اور گولڈن جو بلیاں منائی جاتی ہیں۔جماعتِ احمد یہ پر خدا تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ اسے خلافت جیسی نعمت عظمی عطا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خلافت پر چھپیں سال پورے ہورہے ہیں۔اس موقع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے شکر کی ادا ئیگی میں کیوں نہ جماعت احمد یہ خلافت ثانیہ کی سلور جوبلی منائے۔چونکہ یہ خواہش ایسی تھی جو ایک تحریک کی شکل میں احباب جماعت کے سامنے پیش کی جانی چاہئے تھی اس لئے حضرت چوہدری صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی خدمت میں عرض کی کہ ایسی کوئی تحریک جس میں جماعت مخاطب اور شامل ہو، خلیفہ وقت کی اجازت کے بغیر نہیں ہونی چاہئے اس لئے درخواست ہے کہ حضور اس کی اجازت عنایت فرمائیں تا کہ اسے جماعت کے سامنے پیش کیا جائے۔آپ کی اس درخواست کو خلیفہ اسیح الثانی نے منظور فرمایا۔حضرت چوہدری صاحب کے ذہن میں جو تجویز تھی ، اس کا اعلان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : قریباً دو سال کا عرصہ گزرا۔میرے دل میں یہ تحریک ہوئی کہ جس طرح دنیا وی نظام رکھنے والے لوگ اپنے نظام پر ایک عرصہ گزر جانے کے بعد خوشی اور مسرت کے اظہار کی کوئی صورت پیدا کرتے ہیں۔ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی کامیاب دینی نظام پر ایک عرصہ گزرنے پر اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار کریں۔اس وقت شہنشاہ جارج پنجم کی جو بلی کا موقع تھا۔اس کے بعد حضور نظام حیدر آباد اور سر آغا خان کی جو بلی آئی۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ بیشک بادشاہ بھی اور حکومتیں بھی اگر وہ عمدہ طریق پر چلائی جارہی ہوں نعمت ہوتی ہیں اور اعلی لیڈ ر بھی نعمت ہوتے ہیں۔لیکن ہمیں سب سے بڑھ کر قیمتی نعمت ملی ہوئی ہے۔اس کے لئے ہمیں بھی خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے۔اس نعمت کو عطا ہوئے پچیس سال ہونے کو آئے ہیں۔اور وہ