خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 283
” خلافت کی گاڑی جہاں سے پڑی سے اتری تھی وہیں سے اسے پھر پڑڑی پر چڑھا دیا جائے۔“ ان کا یہ بیان بھی انتہائی گستاخانہ ہے۔پٹڑی سے اترنا ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے، صحیح راہ سے برگشتہ ہو جانا ، راہ حق کو چھوڑ دینا وغیرہ وغیرہ۔خلافت کے نام اور اس کے مقدس مقام کے ساتھ اس سے بڑی گستاخی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے لئے ایسے محاورے استعمال کئے جائیں جن کا مفہوم یہ ہو کہ وہ راہ حق سے برگشتہ ہوگئی ہے۔نعوذ باللہ من ذالک۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ جو خود پڑی سے اترا ہوا ہے وہ خلافت کو پڑی پر چڑھانے کی باتیں کر رہا ہے۔ایسا شخص نہ خلافت کے مقام کو سمجھتا ہے نہ اس سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس کا احترام کرے گا۔حقیقت یہ ہے کہ خلافت حقہ نہ کبھی پٹڑی سے اتری ہے نہ اتاری گئی ہے۔ہاں وہ لوگ خود بے وقر اور بے وقار ہو گئے تھے جنہوں نے اس کا دامن چھوڑا تھا، چنانچہ وہ خود پڑی سے اتر گئے۔خلافت حقہ جب تک رہی ہے ، رشد و ہدایت سے بھری ہوئی خلافت راشدہ ہی رہی ہے۔یہی چوہدری رحمت علی صاحب خلافت کے قیام کا ایک اور طریق بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے لئے تین صورتیں ممکن ہیں۔اولا : اس وقت وہ تمام حکمران جو مختلف مسلم ممالک کی سربراہی پر متن ہیں خدا خوفی، دانشمندی اور ایثار و قربانی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے آپ میں سے کسی کو خلیفہ چن لیں ، باقی سب ان صوبوں کے گورنر بن جا کیں جو اس وقت تو خود مختار مملکتیں ہیں لیکن خلافت کی شکل میں دار السلام یعنی دنیا میں عظیم تر واحد اسلامی مملکت کے صوبوں کا روپ دھار جائیں گے۔یہ طریق کار احسن تر اور آسان تر ہے۔یوں ہو جانے سے اس دنیا میں اسلام والے غالب ہونگے اور آخرت میں بھی سرخرو۔یہ کس