خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 197
۱۹۴ پر تو داخل ہو جاتا ہے۔دوسرے اس طریق سے جماعت کو بھی تمام ملی امور میں نہ صرف تفصیلی اطلاع رہتی ہے بلکہ دلچسپی اور وابستگی بھی قائم رہتی ہے جو قومی ترقی کے لئے بڑی ضروری چیز ہے۔تیسرے اس ذریعہ سے جماعت کے نمائندے اس بات کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں کہ جماعت کے نظام اور کام کو کس طرح چلانا چاہئے۔مجلس مشاورت کے قیام کے بعد گویا جماعت کے نظام کا ابتدائی ڈھانچہ مکمل ہو گیا۔یعنی سب سے او پر خلیفہ وقت ہے جو گویا سارے نظام کا مرکزی نقطہ ہے، اس کے نیچے انتظامی صیغہ جات کو چلانے کے لئے صدر انجمن احمد یہ ہے جس کے مختلف ممبر سلسلہ کے مختلف مرکزی صیغوں کے انچارج ہوتے ہیں اور اس کے بالمقابل مجلس مشاورت ہے جو مختلف مقامی جماعتوں کے نمائندوں کی مجلس ہے اور تمام اہم امور میں خلیفہ وقت کے سامنے مشورہ پیش کرتی ہے اور جس کی پوزیشن ایک طرح سے اور ایک حد تک قوانین وضع کرنے والی مجلس سمجھی جاسکتی ہے۔مسجد فضل لندن کی بنیاد ۱۹۲۴ء میں برطانیہ کے قیام کے دوران آپ نے ۱۹ اکتو بر کومسجد فضل لندن کی بنیاد بھی رکھی۔بنیادرکھتے ہوئے مختلف قوموں کے نمائندے اور متعد انگر یز نوسلم اور دوسرے معززین موجود تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یہ اعلان فرمایا کہ گو یہ مسجد احمد یہ جماعت کی مسجد ہوگی لیکن چونکہ خدا کا گھر ایک وسیع دروازہ رکھتا ہے اور خدا کی خالص یاد ہر رنگ میں محبوب ہے۔اس لئے آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق ہماری طرف سے اس بات کی کھلی اجازت ہوگی کہ جو شخص بھی چاہے خواہ وہ کسی مذہب اور کسی ملت کا ہو اس مسجد میں آ کر اپنے رنگ میں عبادت کرے۔افتتاح مسجد فضل الندن ۱۹۲۲ء کو جب یہ خدا کا گھر تحمیل کو پہنچاتو مولا نا عبد الرحیم در دانچارج و امام مسجد فضل لندن نے حضرت خلیفہ امسیح الثانی کی ہدایت کے ماتحت مسجد کا افتتاح خان بہادر سرعبدالقادر کے ذریعہ کروالیا جو اُن ایام میں لیگ آف نیشنز کی شرکت کے لئے ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت میں