خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 172 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 172

۱۶۹ بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہوگا ایک دن محبوب میرا کروں گا دور اس مہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا بشارت کیا ہے اک دل کی غذادی فسبحان الذي أخزى الأعادي اللہ تعالیٰ نے ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء بروز ہفتہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس موعود بیٹے سے نوازا اور اس کے بارہ میں آپ کی پیشگوئی کے ساتھ دیگر تمام متعلقہ پیشگوئیاں بھی پوری فرمائیں۔یہ غیر معمولی شان اور امتیازات کا حامل بیٹا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد مصل تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دوسرا خلیفہ اور مسیح موعود بنایا۔اللہ تعالیٰ نے ۱۹۴۴ء میں عالم رویا میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ جاری فرمائے : وو " أنا المَسِيحُ الْمَوْعُوْدُ مَثِيْلُهُ وَ خَلِيفَتُهُ الفضل یکم فروری ۱۹۴۴ء) کہ میں مسیح موعود ہوں ، اس کا مثیل ہوں اور اس کا خلیفہ ہوں۔پھر اس کیفیت اور حقیقت کا اظہار کرتے ہوئے آپ عالم رویا میں ہی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ میری زبان پر کیا جاری ہوا۔اور اس کا کیا مطلب ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔اس وقت معا میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کے آگے جو الفاظ ہیں کہ مثیلۂ میں اس کا نظیر ہوں وخلیفتہ اور اس کا خلیفہ ہوں۔یہ الفاظ اس سوال کو حل کر دیتے ہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کہ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہو گا۔اس کے مطابق اور اسے پورا کرنے کے لئے یہ فقرہ میری زبان پر جاری ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس کا مثیل ہونے کے لحاظ سے ایک رنگ میں میں بھی مسیح موعود ہی ہوں۔کیونکہ جو کسی کا نظیر ہوگا اور اس کے اخلاق کو اپنے اندر لے لے گا ، وہ