خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 118
112 خلاصہ کلام : خلافت حقہ یعنی خلافت علی منہاج النبوة کی یہ چند برکات ہیں جو بطور نمونہ یہاں پیش کی گئی ہیں۔اگر ہم تفصیل کے ساتھ قرآن کریم میں سے ان برکات کا جائزہ لیں جو نبوت کے ذریعہ نازل ہوتی ہیں اور پھر خلافت کے ذریعہ جماعت مومنین پر منعکس ہوتی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسی کثرت کے ساتھ مذکور ہیں کہ ان کا شمار اور ان کی انواع کا علم انسان کے بس میں نہیں۔مثلاً نبی تعلق باللہ اور عشق الہی کا وسیلہ ہے۔وہ قرب خداوندی کا زینہ ہے۔اس کے ساتھ عبادات ، قیامِ صلوۃ اور ایتائے زکوۃ کا تصور اور نظام وابستہ ہے۔وہ دعوت الی الخیر کے منصب کے ساتھ آتا ہے۔وہ معروف کے حکم اور منکر کی مناہی کی تعلیم لاتا ہے۔وہ مومنوں میں قولِ سدید کی روح پھونکتا ہے۔وہ اموال اور نفوس کے جہاد کی تحریض دلاتا ہے۔اس کے ذریعہ مومنوں میں استقامت فوق الکرامت پیدا ہوتی ہے۔اس کی تعلیم پر عمل کر کے ایک سالک سلوک کی منازل اور ولایت کے مدارج طے کرتا ہے۔اس کے ذریعہ مومنوں میں بھی خدا تعالیٰ اپنے اعجازی اور اقتداری نشان ظاہر فرماتا ہے۔وہ نبی کے بعد امت پر گواہ بھی ہے اور نگران بھی۔وعلی ہذا القیاس بے شمار برکات ہیں جو نبوت کے ساتھ اترتی ہیں اور پھر بعد میں خلافت ان کی ضامن بنتی ہے۔وہ برکات خلافت کے ذریعہ قیامت تک امت میں جاری ہیں۔انشاء اللہ العزیز