خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 57 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 57

۵۷ جو دونوں فریق کے نزدیک بے تعلق ہو اور اگر یہ بھی قبول نہ کریں تو ان لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جاوے اور میرے اصرار پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام اہل بیت نے اس بات کو تسلیم کر لیا۔یہ فیصلہ کر کے میں اپنے ذہن میں خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی۔مگر خدا تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔66 میں باہر آیا تو مولوی محمد علی صاحب کا رقعہ مجھے ملا کہ کل والی گفتگو کے متعلق ہم پھر گفتگو کرنی چاہتے ہیں۔میں نے ان کو بلوا لیا۔اس وقت میرے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب، خان محمد علی صاحب اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب موجود تھے۔مولوی صاحب بھی اپنے بعض احباب سمیت وہاں آگئے اور پھر کل کی بات شروع ہوئی۔میں نے پھر اس امر پر زور دیا کہ خلافت کے متعلق آپ بحث نہ کریں۔صرف اس امر پر گفتگو ہو کہ خلیفہ کون ہو۔اور وہ اس بات پر مصر تھے کہ نہیں۔ابھی کچھ بھی نہ ہو۔کچھ عرصہ تک انتظار کیا جاوے۔سب جماعت غور کرے کہ کیا کرنا چاہئے۔پھر جو متفقہ فیصلہ ہو اس پر عمل کیا جاوے۔میرا جواب وہی کل والا تھا اور پھر میں نے ان کو یہ بھی کہا کہ اگر پھر بھی اختلاف ہی رہے تو کیا ہوگا۔اگر کثرت رائے سے فیصلہ ہونا ہے تو ابھی کیوں کثرت رائے پر فیصلہ نہ ہو۔۔۔۔اس وقت جماعت کو تفرقہ سے بچانے کی فکر ہونی چاہئے۔جب سلسلہ گفتگو کسی طرح ختم ہوتا نظر نہ آیا اور باہر بہت شور ہونے لگا اور جماعت کے حاضر الوقت اصحاب اس قدر جوش میں آگئے کہ دروازہ توڑے جانے کا خطرہ ہو گیا اور لوگوں نے زور دیا کہ اب ہم زیادہ صبر نہیں کر سکتے۔آپ لوگ