خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 54
۵۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیش فرمودہ یہ مثال خدا تعالیٰ کی خلافت کے قیام کے بارہ میں غیر معمولی عرفان کے دروازے کھولتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا انتخاب ہے جو ایک سبز چڑیا کی مثال میں ظاہر کیا گیا ہے۔یہ چڑیا صرف اس شخص کے سر پر بیٹھتی ہے جو خدا تعالیٰ کے نزدیک اس منصب کا اہل ہوتا ہے۔ایسے موقعوں پر بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ خود کو اس منصب کا اہل سمجھ رہے ہوتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کے سوا اس جماعت کو چلانے والا کوئی نہیں ہے۔یہ لوگ دراصل خلافت کے بارہ میں ایمان کی بنیادی کڑی کو چھوڑ رہے ہوتے ہیں اور سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ خلیفہ نہیں بناتا بلکہ وہ خود بہتر سمجھتے ہیں کہ خلیفہ کون ہو یا اسے کیسا ہونا چاہئے۔اسی طرح بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے خیال علم اور معلومات کے مطابق کسی اور کو اس کا اہل سمجھ رہے ہوتے ہیں اور ان کی نظریں اس پر لگی ہوتی ہیں۔وہ اپنے دل کی عقیدت و وفا کو اس کے ساتھ وابستہ کر رہے ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کے لوگوں کی مرضی پر اپنی مرضی کو نافذ کرتا ہے۔کیونکہ اس کے نزدیک اس منصب کا اہل کوئی اور ہوتا ہے۔چونکہ یہ خلافت خدا تعالیٰ کی خلافت ہے، اس لئے اس کا قیام خدا تعالیٰ خود اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے اور اس چڑیا کو اپنے خلیفہ کے سر پر بیٹھنے کا حکم دیتا ہے۔چنانچہ اس جماعت کے بعض لوگوں کے علی الرغم وہ چڑیا اس شخص کے سر پر بیٹھ جاتی ہے جو دراصل خدا تعالیٰ کا چنا ہوا خاص شخص ہوتا ہے۔اس تمثیل کے عملی نظارے یہ " سبز چڑیا کیا ہے؟ یہ دراصل خدا تعالیٰ کی مرضی ہے جو منتخب کرنے والے افراد کے دلوں پر بیٹھتی ہے اور انہیں اس شخص کی طرف مائل کرتی ہے۔وہ ان کے سروں پر بیٹھتی ہے اور ان کی عقلوں کو قائل کرتی اور ان کے دلوں کو مائل کرتی ہے کہ وہ اس کے لئے خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہم آہنگ ہاتھ کھڑا کریں جس کو خدا تعالیٰ خود قائم کرنا چاہتا ہے۔اس قانونِ الہی کو سمجھاتے ہوئے ہمارے آقا و مولیٰ ،سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی را بیان فرماتے ہیں: