خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 41 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 41

۴۱ تجزیاتی منظر اللہ تعالیٰ جب لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ “فرماتا ہے تو یہ وعدہ فرماتا ہے کہ خلافت وہ خود قائم کرے گا۔یعنی خلیفہ بنانا اس کا کام ہے، کسی دوسرے ذریعہ سے اس کا قیام ممکن نہیں۔پس جب خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ خلافت وہ خود قائم کرے گا یا وہ خود خلیفہ مقرر کرے گا تو اس کا مطلب کیا ہے؟ وہ کس طرح خلیفہ بناتا ہے یا خلافت کا قیام کس طرح خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے؟ اور وہ کو نسے عوامل یا وجوہات ہیں جن کی بناء پر ہم اس عقیدہ پر قائم ہوتے ہیں کہ واقعہ خلیفہ بنانا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔چنانچہ اس پہلو سے جب ہم خدا تعالیٰ کے اس وعدہ کو دیکھتے ہیں تو اس کے حسب ذیل رُخ ہمارے سامنے آتے ہیں کہ بحیثیت بشر خلیفہ ایک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو خدا تعالیٰ نے ہی بنایا ہے۔کائنات کی تمام تخلیقات ودنیا کی سب مخلوقات ، مثلاً انسان، حیوان، چرند ، پرند، نباتات، جمادات ہٹی ، پانی ، آگ ، ہوا، سورج ، چاند ، ستارے وغیرہ وغیرہ کی طرح انسان بھی خدا تعالیٰ ہی کی تخلیق ہے۔لہذا خلیفہ بھی ایک انسان ہے جسے خدا تعالیٰ نے عام انسانوں کی طرح بنایا ہے۔یعنی جسمانی اور بشری تخلیق کے اعتبار سے دیگر انسانوں میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔اگر یہ سب کچھ ایسا ہے تو پھر ہم امتیازی طریق پر یہ کیوں کہتے ہیں کہ خلیفہ خدا بنا تا ہے؟ پھر یہ رخ سامنے آتا ہے کہ خلافت ایک منصب ہے۔اس پہلو سے جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کے مختلف منصب بھی خدا تعالیٰ ہی کی عطا ہوتے ہیں۔مثلاً قرآن کریم میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: ” يَقَوْمِ أَذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيْكُمْ أَنْبَيَاءَ وَ جَعَلَكُمْ شُلُوكاً (المائدہ: ۲۱) کہ اے میری قوم! اپنے او پر اللہ کی نعمت کو یاد کرو جب اس نے تمہارے درمیان انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا۔اور ” توتی الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ (ال عمران : ۲۷) کہ اللہ جسے چاہتا ہے،فرمانروائی عطا کرتا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ بادشاہت بھی خدا تعالیٰ ہی کی عطا ہے۔اسی طرح ہر قسم کی