خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 452
۴۴۸ پروانے جمع خلافت کے ہم اللہ کی رہتی تھامے ہیں جل جاؤ گے اپنی آگ میں تم، ابلیسی شراروں سے کہہ دے ہم صبر و رضا کے بحرِ کراں، ہم عزم و وفا کے کوہ گراں مٹ جاؤ گے، ہم سے الجھو تو ، جاکفر کے دھاروں سے کہہ دے 66 ہو جائیں گے نابود جہاں سے یہ ”اعل همین کہنے والے ہے امر ” أنا الحق“ کا نعرہ، سب جان نثاروں سے کہہ دے سب کوه و دمن، سب دشت و چمن، گونجیں گے ”اللہ اکبر سے حق آئے گا، تم بھا گو گے، باطل کے یاروں سے کہہ دے توحید کے پھولوں سے دیکھو دھرتی کا آنگن مہکا ہے تم سب سے حسیں ہے یہ منظر، ان مست نظاروں سے کہہ دے (ڈاکٹر مہدی علی چوہدری۔کولمبس او بایو )