خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 433
۴۲۹ جذبات سے بے قابو ہو کر غیر ذمہ دارانہ حرکتیں بھی ہوسکتی تھیں۔جس طرح شدید مشتعل اور زخمی جذبات کو اللہ تعالیٰ نے مجھے سنبھالنے کی توفیق دی ، خلیفہ وقت کی عدم موجودگی یا بے تعلقی کے نتیجہ میں تو ناممکن تھا کہ جماعت کو اس طرح کوئی سنبھال سکتا۔بعض لوگ مجھے خط لکھتے ہیں تو آپ تصور نہیں کر سکتے کہ اُن کا حال کیا ہے۔وہ اس وقت تڑپ رہے ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اگر آپ کے ہاتھ پر ہم نے عہد نہ کیا ہوتا کہ ہم صبر دکھائیں گے ، خواہ ہمارے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جاتے ، ہمارے بچے ہمارے سامنے ذبح کر دیے جاتے تب بھی ان ظالموں سے ہم ضرور بدلہ لیتے۔یہ حالت ہو جس جماعت کے اخلاص کی اور محبت کی اور عشق کی ، اُسے خلافت کے سواسنبھال ہی کوئی نہیں سکتا۔اس لئے یہ ایک نہایت خطرناک سازش تھی اور پھر اس کی انگلی کڑیاں تھیں۔جن لوگوں کو جھوٹ کی عادت ہو، ظلم اور سفا کی کی عادت ہو، افتراء پردازی کی عادت ہو، وہ کوئی بھی الزام لگا کر ، کوئی بھی جھوٹ گھڑ کے پھر خلیفہ کی زندگی پر بھی حملہ کر سکتے تھے اور اس صورت میں جماعت کا اُٹھ کھڑے ہونا اور اپنے قومی سے قابو کھودینا، جذبات سے قابوکھودینا اور دماغی کیفیات سے بھی نظم وضبط کے کنٹرول اتار دینا ایک طبعی بات تھی۔ناممکن تھا کہ جماعت ایسی حالت میں کہ اُن کو پتہ ہے کہ خلیفہ وقت کلیہ ایک معصوم انسان ہے ، ان باتوں میں نہ ہماری جماعت کبھی پڑی نہ پڑسکتی ہے۔اس پر ایک جھوٹا الزام لگا کر ایک بدکردار انسان نے اُسے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ناممکن تھا کہ جماعت اس کو برداشت کر سکتی۔جبکہ برداشت کرنے کے لئے جو ذریعہ خدا تعالیٰ نے بخشا ہے، خلافت، اُس کی رہنمائی سے محروم ہو۔اس صورت میں ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬