خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 420
۴۱۶ ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ قومی یا لسانی یا خاندانی برتری کی بنیاد پر اعتراض ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ خلیفہ فلاں قوم سے کیوں ہے اور فلاں سے کیوں نہیں؟ اس اعتراض کو کبھی رنگ ونسل کے نام نہاد امتیازات کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی اس کی زبان کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔جیسا کہ پہلے ٹھوس اور قطعی دلائل اور وجوہات کی بناء پر ثابت کیا جا چکا ہے کہ خلافت کا قیام یا خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اس لئے یہ اعتراض براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات پر اٹھتا ہے کہ اس نے اسے فلاں قوم یا خاندان سے کیوں قائم فرمایا ہے ،فلاں میں سے کیوں نہیں قائم فرمایا۔اللہ تعالیٰ جب خلیفہ مقررفرماتا ہے تو وہی جانتا ہے کہ کون اس کا اہل ہے۔اس کی نظر میں نہ کسی قوم اور خاندان کو کوئی مصنوعی برتری حاصل ہے ،نہ رنگ ونسل کی کوئی حیثیت ہے۔اس کا انتخاب نہ کسی قوم یا فرد کی خواہشات کا پابند ہے اور نہ کسی زبان اور علمیت کا۔اس لئے ایسا ہر اعتراض خود بخو درڈ ہو جاتا ہے جس کی زد خدا تعالیٰ کے علم وارادہ پر پڑتی ہے۔چنانچہ کفارِ مکہ نے بھی اسی نوع کا اعتراض رسول اللہ ہم پر بھی کیا اور کہا: وَ قَالُوْا لَوْلَا نُزِلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْم (الزخرف: ۳۲) ترجمہ: اور انہوں نے کہا کیوں نہ یہ قرآن ان دو معروف بستیوں ( یعنی مکہ اور طائف) کے کسی بڑے شخص پر اتارا گیا۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی عطا فر مایا کہ دو أَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ ، نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ