خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 408
▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬ قومی اموال میں غلط تصرف کا الزام : ایک اعتراض یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ خلیفہ وقت نعوذ باللہ جماعتی اموال کا درد نہیں رکھتا، اسے بیجا خرچ کرتا ہے یا نا جائز طور پر تقسیم کرتا ہے۔یہ اعتراض بھی پرانے منافقین کی روش کا اعادہ ہے۔خلفائے راشدین کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے احباب پر خوب روشن ہوگا کہ کس طرح معترضین نے ایک کے بعد دوسرے خلیفہ پر مالی بے ضابطگیوں اور نا انصافیوں کے الزامات عائد کئے۔خلفاء تو پھر خلفاء تھے دونوں جہاں کے سردار حضرت محمد مصطفی م پر بھی ظالم اس بارہ میں زبان طعن دراز کرنے سے باز نہ آئے یعنی اس سردار دو عالم ﷺ پر بھی قومی اموال کی ناجائز تقسیم کا الزام لگایا گیا جو اس دنیا میں بھی عدل کی بلند ترین گرسی پر فائز فرمایا گیا اور قیامت کے دن بھی خدا کے بعد عدل وانصاف کی گرسیوں میں اس کی گرسی سب سے اونچی ہوگی۔خدا کا نبی تو براہِ راست خدا کا انتخاب ہوتا ہے لیکن نبی کے خلفاء کا انتخاب چونکہ الہی تصرف کے تحت نبی کی تربیت یافتہ صالحین کی جماعت کرتی ہے اور انتخاب کے وقت معیار محض اللہ کا تقومی ہوتا ہے۔اس لئے انبیاء کے خلفاء کو بھی خدا تعالیٰ ہی کا انتخاب شمار کیا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ (مبائعین ) کا اسی مذہب پر اجماع ہے۔پس جس وجود کو خلافت کی عظیم ذمہ داری محض اس لئے سونپی جاتی ہے کہ وہ اپنے وقت کے انسانوں میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اپنے دل میں رکھتا ہے، اس پر اس قسم کے لغو اعتراضات مضحکہ خیزی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔دین کی راہ میں مالی قربانی کے میدان میں یہ معترضین خلیفہ وقت کی جوتیوں کی خاک کو بھی نہیں پہنچتے۔خلیفہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اس کے دل میں حق