خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 386
۳۸۲ خاتم الخلفاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی امتیازی خلافت حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سنت اللہ کے موافق ایک آسمانی نظام قائم ہو گا اور ایک آسمانی مصلح آئے گا۔درحقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے۔“ ( شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه (۳۱۲) لا مسیح موعود علیہ السلام کی شان خاتم الخلفاء کی ہے جو الگ بلند مقام رکھتی ہے۔تب روح القدس تو اس مجد داور مصلح سے تعلق پکڑتا ہے جو اجتبا اور اصطفا کی خلعت سے مشرف ہو کر دعوت حق کے لئے مامور ہوتا ہے۔“ (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آسمانی مصلح سے مراد خاتم الخلفاء مسیح موعود مرا دلیا ہے، خلیفہ راشد مراد نہیں آیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود لکھا ہے یہ نبوت پہلی نبوتوں سے ایک بڑا اختلاف رکھتی ہے اور وہ یہ کہ پہلے نبی مستقل نبی تھے اور آپ امتی نبی ہیں۔پس جس طرح آپ کی نبوت کے پہلے نبیوں کی نبوت سے مختلف ہونے کے باوجود اس وعدہ کے پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آیا کہ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ اسی طرح خلافت کے مختلف ہونے کی وجہ سے بھی اس وعدہ کے پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔اور اگر بعض باتوں میں پہلی خلافتوں سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے یہ خلافت اس آیت سے باہر نکل جاتی ہے تو ماننا پڑے گا کہ