خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 379
۳۷۵ لئے دائمی طور پر بقا نہیں، لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں، فلمی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانے میں برکاتِ رسالت سے محروم نہ رہے۔پس جو شخص خلافت کو صرف تمیں برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہر گز نہیں تھا کہ رسول کریم کی وفات کے بعد صرف تمہیں برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں قائم رکھنا ضروری ہے۔پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہو جائے، کچھ پرواہ نہیں۔بلکہ پہلے دنوں میں تو خلیفوں کا ہونا بجز شوکتِ اسلام پھیلانے کے کچھ اور زیادہ ضرورت نہیں رکھتا تھا۔کیونکہ انوار رسالت اور کمالات نبوت تازہ بتازہ پھیل رہے تھے اور ہزار ہا مجزات بارش کی طرح ابھی نازل ہو چکے تھے اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اس کی سنت اور قانون سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ بجائے ان چار خلیفوں کے اس تیس برس کے عرصہ تک آنحضرت م کی عمر کو ہی بڑھا شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۵۴،۳۵۳) خلیفہ راشد نبی کے کمالات کا مظہر ہے اور برکاتِ رسالت دراصل روحانی خلافت سے منعکس ہوتی ہیں۔حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تمہیں برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جائے۔اور نیز جب کہ یہ امت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھر آیت