خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 378
(۳۷۴ و خیال کی طرح اس خلافت کا صرف تمہیں برس ہی دور تھا۔اور پھر ہمیشہ کے لئے اسلام ایک لا زوال نحوست میں پڑ گیا۔مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہو سکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقادر کھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چودہ سو برس تک رہا۔لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے،اس کی برکات گویا اس کے زمانے تک ہی محدود ر ہیں۔اور خد اتعالیٰ نے چاہا کہ کچھ مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے روحانی خلیفوں کے ذریعہ ظاہر ہوں۔ایسی باتوں کو تو سن کر ہمارا بدن کانپ جاتا ہے۔مگر افسوس کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالا کی اور بے باکی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں۔کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مدت ہوئی کہ ان کا خاتمہ ہو چکا ہے۔“ شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۰) موسوی شریعت میں خلافت راشدہ ، نبوت کے پیرا یہ میں تھی اور امت محمدیہ میں روحانی خلافت ( خلافت علی منہاج النبوة ) خلافتِ راشدہ کے پیرا یہ میں تھی۔گو مجددیت و محدثیت وغیرہ بھی خلافتِ روحانی ہے مگر نبوت کے بعد خلافتِ راشدہ( علی منہاج النبوة ) روحانی خلافت کا بلند ترین مقام ہے۔خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو فلمی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو کیونکہ خلیفہ در حقیقت رسول کاظل ہوتا ہے اور چونکہ کسی انسان کے