خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 377
۳۷۳ کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں۔بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ گزرنے کے بعد جب پاک تعلیم پر خیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجد د اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں۔۔۔۔۔وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں۔۔۔۔۔افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے۔جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے۔“ (شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۰،۴۳۹) د وہ پاک لوگ جو بات کی جانشینی میں روحانی مقامات کے حامل ہیں، وہی روحانی خلافت پر فائز ہیں۔یہ بات نہایت ضروری ہے کہ بعد وفات رسول اللہ ام اس امت میں فساد اور فتنوں کے وقتوں میں ایسے مصلح آتے رہیں جن کو انبیاء کے کئی کاموں میں سے یہ ایک کام سپرد ہوا کہ وہ دین حق کی طرف دعوت کریں۔اور ہر ایک بدعت جو دین سے مل گئی ہو اس کو دور کریں۔۔۔۔66 (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۴۴) یہ روحانی خلافت ہے جو مختلف مصلحین کے ذریعہ جاری رہی۔بعض صاحب آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ کی عمومیت سے انکار کرتے ہیں۔کہ سنگم سے صحابہ ہی مراد ہیں اور خلافت راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہوگئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام ونشان نہیں ہوگا۔گو ایک خواب