خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 373
۳۶۹ ہے۔وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آشنا کہ خدا ان کے خوف کو امن سے بدل دیا کرتا ہے۔یہ علامت بھی دنیوی بادشاہوں پر کسی صورت میں چسپاں نہیں ہوسکتی۔کیونکہ دنیوی بادشاہ اگر آج تاج و تخت کے مالک ہوتے ہیں تو کل تخت سے علیحدہ ہو کر بھیک مانگتے دیکھے جاتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کے خوف کو امن سے بدل دینے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات جب کوئی سخت خطرہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اس کے مقابلہ کی ہمت تک کھو بیٹھتے ہیں۔پھر فرماتا ہے۔يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا کہ وہ خلفاء میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔گویا وہ خالص موحد اور شرک کے شدید ترین دشمن ہوں گے۔مگر دنیا کے بادشاہ تو شرک بھی کر لیتے ہیں۔حتی کہ رسول کریم نہ فرماتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے کبھی کفر بواح صادر ہو جائے۔پس وہ اس آیت کے مصداق کس طرح ہو سکتے ہیں۔چوتھی دلیل جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان خلفاء سے مراد دنیوی بادشاہ ہر گز نہیں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأَوْلَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ یعنی جو لوگ ان خلفاء کا انکار کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔اب بتاؤ کہ جو شخص کفر بواح کا بھی مرتکب ہوسکتا ہو آیا اس کی اطاعت سے انکار کرنا انسان کو فاسق نہیں بنا سکتا۔فسق کا فتوای انسان پر اسی صورت میں لگ سکتا ہے جب وہ روحانی خلفاء کی اطاعت کا انکار کرے۔غرض یہ چاروں دلائل جن کا اس آیت میں ذکر ہے اس امر کا ثبوت