خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 369
۳۶۵ السلام پر اس کا خاتمہ ہوا۔اس عرصہ میں صد ہا بادشاہ اور صاحب وحی والہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۲) شریعت موسوی میں چودہ سو برس تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا۔نہ صرف تمہیں برس تک اور صد ہا خلیفے روحانی اور ظاہری طور پر ہوئے نہ صرف چار اور پھر ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوا۔“ (شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۴) یہودیوں اور نصاری کی کتابوں کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گواس قوم کا دشمن یعنی فرعون ان کے سامنے ہلاک ہوا۔مگر وہ خود تو زمین پر نہ ظاہری خلافت پر پہنچے نہ باطنی خلافت پر۔بلکہ اکثر ان کی نافرمانیوں سے ہلاک کئے گئے اور چالیس برس تک بیابان لق و دق میں آوارہ رہ کر جان بحق تسلیم ہوئے۔پھر بعد ان کی ہلاکت کے ان کی اولا د میں ایک ایسا سلسلہ خلافت کا شروع ہوا کہ بہت سے بادشاہ اس قوم میں ہوئے اور داؤد اور سلیمان جیسے خلیفة اللہ اسی قوم میں پیدا ہوئے۔یہاں تک کہ آخر یہ سلسلہ خلافت کا چودہویں صدی میں حضرت مسیح پر ختم ہوا۔شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۲۶،۳۲۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں عام طور پر خلافتِ ظاہری سے بادشاہت مراد لی گئی ہے اور روحانی یا باطنی خلافت بوت ہے یعنی خلافت را شده، مجددیت محد ثیت وغیرہ۔بادشاہت و ملوکیت جو حکمرانی کی خلافت ہے۔اس کا روحانی خلافت سے جو کہ نبوت کی خلافت ہے، کوئی تعلق نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جس شخص کے دل میں حق کی تلاش ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ قرآن