خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 26 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 26

۲۶ خلافت کی اقسام : لفظ خلف اپنے معنوں کے لحاظ سے بہت وسعت رکھتا ہے اور اس سے مشتق لفظ ” خلیفہ کئی رنگ میں اپنے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔قرآنِ کریم میں لفظ خلف ، <mark>قوم</mark>وں کی جانشین <mark>قوم</mark>وں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور انفرادی طور پر بادشاہوں کے جانشین بادشاہوں کے لئے اور افراد کے جانشین افراد کے لئے بھی آیا ہے۔اسی طرح نیکوں کے نیک جانشینوں کے لئے بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور بدوں کے بد جانشینوں کے لئے بھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے زمین پر اپنی جانشینی کے لئے اپنی صفات کے مظاہر انبیاء <mark>علی</mark>ہم السلام کو بھی خلیفہ قرار دیا گیا ہے خواہ وہ کسی بڑے نبی کی امت میں اس کے خلیفہ تھے یا بذات خود آزادانہ طور پر نبی تھے۔مثلاً حضرت آدم <mark>علی</mark>ہ السلام کو خلیفہ قرار دیا گیا۔(البقرہ:۳۱) اور حضرت داؤد <mark>علی</mark>ہ السلام کو بھی جو امت موسویہ کے ایک نبی تھے، ” يـــدَاوُدُ إِنَّـــا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ “ (ص:۲۷) کہہ کر خلیفہ کہا گیا۔کہ اے داؤ دا یقیناً ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔اسی طرح کسی کا نبی کی جانشینی کرنا ” خلافت <mark>علی</mark> منہاج النبوة“ کہلاتی ہے۔الغرض خلافت کی حسب ذیل اقسام ہیں ا: نبوت: نبوت وہ خلافت الہیہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانشینی میں زمین پر نبیوں کے ذریعہ نافذ ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی خلافت میں دنیا میں سب سے بڑے اور اصل خلیفہ اور خدا تعالیٰ کی صفات کے کامل مظہر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی رہی ہے تھے۔حضرت مسیح موعود <mark>علی</mark>ہ السلام آپ کے اس مقام رفیع الشان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجت اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی م مراد ہیں۔جن کوظلمی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اظلال و آثار ہیں بخشے گئے اور وہ خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے تحقیق کے لئے سلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا