خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 352
۲۴۸ انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض لوگ بیعت کر کے عملاً جماعت کے فعال رکن نہیں بنتے اور اپنی پرانی حالت میں رہتے ہوئے بھی خود کو جماعت میں ہی شمار کرتے ہیں۔بعض اوقات نظر کچھ دیکھتی ہے مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔اس لئے ضروری نہیں کہ ایک حاسد یا نقاد جب جماعت کی تعداد کو اپنے معیار گنتی کے مطابق دیکھے تو وہ درست ہی ہو۔اللہ تعالیٰ کی اپنی حکمتیں ہیں جن کے تحت وہ اصل صورتحال پر اخفاء کا پردہ ڈال دیتا ہے۔مثلاً ملاحظہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: دو وَإِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ إِذَا الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَتِلُكُمْ فِي أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا “ (الانفال: ۴۵) کہ جب وہ تمہیں ان کو ، جب تمہاری ان سے مڈھ بھیڑ ہوئی تمہاری نظروں میں کم دکھا رہا تھا اور تمہیں ان کی نظروں میں بہت کم دکھا رہا تھا تا کہ اللہ اس کام کا فیصلہ نیٹا دے جو بہر حال پورا ہو کر رہنے والا تھا۔لوگوں کا جماعت کو قبول کرنا اور دوسروں کو ان کا کم نظر آنا بھی خدا تعالیٰ کی خاص حکمت کے تحت معلوم ہوتا ہے۔جماعت کو اپنی تعداد کے بارہ میں کسی مغالطہ یا ابہام کا سامنانہیں۔اگر دوسروں کو وہ نظر نہیں آتا جسے جماعت صحیح سمجھ رہی ہے تو اس کی جماعت ذمہ دار نہیں ٹھہر سکتی۔ارتداد الہی سلسلوں میں ارتداد کا سلسلہ بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جو جماعت کی تعداد کے تعین میں روک ہے۔بیعتوں کے بارہ میں غلط فہمی دور کرنے کے لئے اس مسئلہ کی نوعیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔تاریخ اسلام بتاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بیعت کرنے والوں میں مختلف قبائل اور لوگوں کے علاوہ مسیلمہ بن حبیب، طلیحہ الاسدی، سجاح متبنیہ ، اور اسود العنسی جیسے بھی تھے، جو مرتد ہوئے تو اپنے اپنے ساتھ اپنے متبعین کی کثیر تعداد لے کر اسلام سے منکر ہوئے اور بغاوت کی راہ اختیار کر گئے