خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 24
۲۴ میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، سب سکیمیں باطل اور تمام تدبیر میں ناکام ہیں۔( خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۳۶ء ، الفضل ۳۱ / جنوری ۱۹۳۶ء) نیز آپ نے فرمایا: نیز فرمایا: ” جماعت کے معنی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو۔جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خدا تعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔“ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۳) جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے۔جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے۔جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنا دیا ہے۔اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم کام کر سکتے ہو۔اس سے جتنا زیادہ تعلق رکھو گے، اسی قدرتمہارے کاموں میں برکت ہوگی اور اس سے جس قدر دور ہو گے اسی قدرتمہارے کاموں میں بے برکتی پیدا ہوگی۔جس طرح وہی شاخ پھل لاسکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔وہ کئی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کر سکتی جو درخت سے جدا ہو۔اسی طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا بھی کام نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکر وٹہ کر سکتا ہے۔“ الفضل قادیان ۲۰ نومبر ۱۹۴۶ء) الغرض ان مذکورہ بالا اقتباسات اور افکار سے خلافت کی عظمت، اہمیت اور ضرورت کے مختلف زاویے اور پہلو اپنے الگ الگ اور حسین رنگ لئے سامنے آتے ہیں۔ان میں سے ہر زاویہ،