خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 344 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 344

اقدامات کرنا وغیرہ وغیرہ اعمال حسنہ ہیں جو ان مذکورہ بالا اقتباسات سے ظاہر ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس خلفاء کا گویہ عام معیار قربانی ہے اور اس کے سادہ سادہ نمونے ہیں مگر ان کی شان انتہائی بلند اور عظیم ہے۔مالی قربانیوں کی یہ ایسی مثالیں ہیں جو تاریخ عالم میں شاذ شاذ نظر آتی ہیں۔ان پاک وجودوں پر بدظنی کرنا ایک بد باطن شخص کی بدسوچوں کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔وہ صرف اپنے نفس کے بخل اور بدیانتی پر دوسروں کو قیاس کر کے محض اپنے فسق و فجور کا اظہار کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے شخص کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ وو طعنه بر پا کاں نہ برپاکاں بود خود کنی ثابت کہ ہستی فاجرے“ کہ پاکبازوں پر طعنہ زنی کبھی پاک لوگوں پر نہیں پڑتی بلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود فاجر ہے۔خلافت حقہ دراصل انوار نبوت اور برکات رسالت کو منعکس کرتی ہے۔اس منصب پر فائز وجود انوار بوت کی تأثیر سے ایک نورانی وجود ہوتا ہے اور اُن تمام الائشوں سے پاک ہوتا ہے جن کا تصو ر بد باطن یا بدیانت لوگ کرتے ہیں۔چنانچہ ان کے ایسے الزامات ووساوس وغیرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ۱۹۵۲ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے خود وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا: میں مارچ ۱۹۱۴ ء میں خلیفہ ہوا ہوں اور اس وقت میری خلافت پر ۳۸ سال گزر چکے ہیں۔تم ہی بتاؤ میں نے اس عرصہ میں بیت المال سے کیا لیا ہے؟ آخر میں تمہیں تو جہ دلاتا ہوں ، ڈراتا ہوں اور ہوشیار کرتا ہوں تو اس لئے نہیں کہ اس میں میرا کچھ فائدہ ہے۔میں تمہیں اس لئے توجہ نہیں دلاتا کہ سلسلہ کے مال میں میرا کوئی حصہ مقرر ہے۔یہ نہیں کہ ۸لا کھ آمد ہو گی تو ایک لاکھ میرا ہو گا، بارہ لاکھ ہوگی تو ڈیڑھ لاکھ میرا ہوگا۔مجھے سلسلہ کے مال سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔جس کی وجہ سے میں تمہیں ڈراتا ہوں۔میں ۲۵ سال کی عمر کا تھا جب خلیفہ ہوا۔اب ۶۳ سال کا ہوں۔اب تک خزانہ سے میں نے کیا لیا ہے جس کی وجہ سے کسی کو شبہ ہو کہ میں نے یہ بات کسی غرض کی