خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 332
(۳۲۸) موقع پر بھی ” جہاں ہر احمدی کا دل شکر و محبت کے انتہائی جذبات کے ساتھ لبریز ہے وہاں ہر احمدی کا ہاتھ بھی خدا تعالیٰ کے حضور اس دعا کے ساتھ اٹھ رہا ہے کہ خدایا تو نے جس طرح ان گزرنے والے سالوں کو خوشی اور کامیابی اور کامرانی کے ساتھ پورا کیا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر آنے والے سالوں کو بھی ہمارے لئے مبارک کر اور ہماری اس جو بلی کو اس عظیم الشان جوبلی کا پیش خیمہ بنا دے جو تیرے جلال کے انتہائی ظہور کے بعد آنے والی ہے۔اور اے ہمارے مہربان آقا! تو ہمارے اس امام کو جس کی مبارک قیادت میں جماعت نے تیری ہزاروں برکتوں سے حصہ پایا ہے ایک لمبی اور بامراد زندگی عطا کر اور اس کے آنے والے عہد کو گزرنے والے عہد کی نسبت بھی زیادہ مقبول اور زیادہ شاندار اور زیادہ مبارک بنادے۔آمین ثم آمین دوسرا اعتراض اور اس کا جواب اس ضمن میں دوسرا اعتراض یہ ہے کہ : جماعتی فنڈ ز کسی فرد کو ذاتی استعمال کے لئے نہیں دیئے جانے چاہئیں، چاہے وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔یہ امر اخلاقی اور قانونی ہر دو پہلوؤں سے محلِ نظر ہے۔“ ظاہر ہے کہ یہ بات وہ شخص نہیں کر سکتا جو خلیفہ وقت کے ہاتھ پر پک چکا ہو۔بیعت میں ایک مومن خلیفہ وقت کے حضور صرف اپنا مال ہی نہیں پیش کرتا بلکہ اپنے آپ کو بھی غیر مشروط طور پر اس کے ہاتھ میں فروخت کرتا ہے۔ایک مومن کی بیعت کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ پر استوار ہوتی ہے کہ : إِنَّ اللَّهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبه (1) کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو (اس وعدہ کے ساتھ ) خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی۔نیز بیعت کی بنیاد ایک مومن کے اس غیر مشروط عہد پر اٹھائی جاتی ہے کہ وہ اپنے جان، مال ، اپنی عزت اور وقت کو خلافت احمدیہ پر ہر لمحہ قربان کرنے کے لئے تیا ر رہے گا۔ایک مومن اس