خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 315 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 315

۳۱۱ اپنے قیدی کو اس وقت تک قتل نہیں کرے گا جب تک ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہو جائیں۔“ (بخاری کتاب المغازی سر یہ حضرت خالد بن ولید بطرف بنو جذیمہ ) اس فوج میں بنو سلیم کے افراد نے حضرت خالد کے حکم پر اپنے قیدیوں کو ہلاک کر دیا۔لیکن مهاجرین وانصار نے ( اپنی بصیرت اور تجربہ کے آئینہ میں ) اس حکم کو آنحضرت ﷺ کی سنت اور رحیمانہ مزاج کے پیش نظر ( معصیۃ الرسول سمجھا اور ) نا قابل عمل سمجھ کر اپنے اپنے قیدی رہا کر دیئے۔( ابن سعد وزرقانی بعث حضرت خالد بن ولید بطرف بنو جذیمہ ) حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: ” ہم نے مکہ پہنچ کر جب آنحضرت ٹیم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ خدا کے حضور التجا کی: " اللَّهُمَّ إِنِّي اَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ۔کہ اے اللہ ! جو کچھ خالد نے کیا میں تیرے حضور اس سے بری ہوں۔اے اللہ ! جو کچھ خالد نے کیا میں تیرے حضور اس سے برات چاہتا ہوں۔( بخاری کتاب المغازی سر یہ حضرت خالد بن ولید بطرف بنو جذیمہ ) آپ نے فورا حضرت علی کو بنو جذیمہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کے مقتولین کا خون بہا اور ان کے اموال کے نقصان کا اس طرح پورا معاوضہ ادا فرمایا کہ مرنے والے کتوں کی بھی قیمت دی۔جب سب ادا ئیگی ہو چکی تو آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا سب خون بہا ادا ہو چکا ہے اور سارے نقصان کا مداوا ہو چکا ہے یا ابھی کچھ باقی ہے؟ بنو جذیمہ والوں نے بتایا کہ سب کچھ پورا ہو چکا ہے تو آپ پوری تسلی کرنے کے بعد وہاں سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔مکہ پہنچ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تفصیل پیش کی تو آنحضرت ﷺ نے خوشنودی کا اظہار فرمایا۔لیکن جو زخم آپ کو پہنچ چکا تھا اس نے پھر کروٹ لی اور ایک بار پھر آپ کا دل افسوس سے بھر گیا اور آپ نے ہاتھ اٹھائے اور خدا تعالیٰ کے حضور وہی التجا کی۔" اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِد“اے اللہ ! جو کچھ خالد نے کیا میں تیرے حضور اس سے برات چاہتا ہوں۔یہ التجا آپ نے تین بار دوہرائی۔(طبری وزرقانی بعث حضرت خالد بن ولید بطرف بنو جذیمہ ) اس واقعہ سے واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نزدیک حضرت خالد کی اطاعت نہ کرنے