خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 312 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 312

طَاعَةً فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوْفِ “ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے حکم میں اطاعت جائز نہیں ، اطاعت معروف میں لازم ہے۔(تاریخ الخمیس بعث عالقمہ بن نجز زالی الحسبة ) یہاں آنحضرت ہم نے ” معروف کو معصیۃ اللہ کے مقابل پر رکھا ہے۔یعنی وہ احکام یا فیصلے جو اللہ کی نافرمانی والے ہوں ، معروف نہیں ہیں یعنی ” معروف“ کا متضاد ” معصیۃ اللہ ہے۔مذکورہ بالا واقعہ کے پیش نظر آنحضرت ہم نے فرمایا تھا: ” لَا طَاعَةً فِي مَعْصِيَةِ اللهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ “ کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے حکم میں اطاعت جائز نہیں ،معروف میں اطاعت لازمی ہے۔آپ نے اس فرمان میں ” معروف کو معصية الله “ کے مقابل پر رکھا ہے۔یعنی جو معروف ہے وہ معصیة اللہ نہیں ہے اور معصیة اللہ کو معروف قرار نہیں دیا جا سکتا۔پس منکر اور معصیۃ اللہ یعنی بُرائی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے احکام کا صدور آپ سے ممکن ہی نہیں۔اس لئے بیعت کرنے والے کو یہ اختیار تو ہے کہ وہ اپنی بیعت واپس لے لے یا آپ کی بیعت سے نکل جائے۔لیکن بیعت میں رہتے ہوئے اسے آپ کے کسی حکم کی نافرمانی کا کوئی اختیار نہیں۔یہ ویسے ہی نا معقول اور نا قابل قبول بات ہے کہ ایک شخص ایک طرف تو آپ کی بیعت کر رہا ہو اور پھر آپ کی کمزوریاں اور آپ کے عیوب بھی تلاش کر رہا ہو اور یہ نتیجے نکالنے کی کوشش کر رہا ہو کہ آپ کا کونسا حکم معروف تھا اور کونسا معروف نہیں تھا۔وہ اس تاک میں ہو کہ وہ کس حکم کی تعمیل کرے اور کس کو غیر معروف قرار دے کر اس کی تعمیل سے انکار کر دے۔اس کا منطقی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ ایسے لوگ عقد بیعت باندھ کر جس کو اپنا آقا ، مطاع اور مالک بناتے ہیں اور اس کی اطاعت کا جو اپنی گردن پر ڈالتے ہیں ، اس پر خود گم اور جج بننے لگتے ہیں۔بیعت کے بنیادی تصور کی روشنی میں ان کا یہ عمل ان کی بیعت کو بے حقیقت اور بے اصل قرار دیتا ہے۔طاعت در معروف میں آنحضرت ام کی بیعت آنحضرت ﷺ نے فتح مکہ کے دن جب عورتوں سے بیعت لی تو آپ کے ان الفاظ