خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 308
اطاعت والے الفاظ بیعت نہیں دو ہرا تا بلکہ وہ خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عقد بیعت باندھتا ہے۔طاعت در معروف“ کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بیعت کی شرائط میں لازم رکھے ہیں اور خلیفہ کی بیعت کے وقت وہ آپ ہی کی اتباع میں دو ہرائے جاتے ہیں۔اگر خلیفہ وقت کے بارہ میں ایک بظاہر بیعت کنندہ یہ سوچتا ہے کہ اس کے فیصلوں میں بعض فیصلے غیر معروف بھی ہیں یا بالفاظ دیگر وہ اس کے فیصلوں کے معروف یا غیر معروف ہونے کے فیصلہ کا اختیار رکھتا ہے۔اور اس اختیار کی بناء پر وہ یہ بھی حق رکھتا ہے کہ وہ بعض فیصلوں کو معروف ہونے کی وجہ سے مانے گا اور بعض پر غیر معروف کی مہر لگا کر انہیں رد کر دے گا تو یہ اس کی جاہلانہ سوچ ہے۔ایسی سوچ بیعت کے بنیادی تصور کے خلاف اور اس سے متصادم ہے۔اس سوچ کے ساتھ وہ صرف خلیفہ وقت کی بیعت سے ہی نکلنے کی جسارت نہیں کرتا بلکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے بھی نکل جاتا ہے۔کیونکہ آپ کے ساتھ اس کا عقد بیعت بھی ” طاعت در معروف‘ کے الفاظ کے ساتھ بندھا ہوا تھا۔یہ قصہ یہیں خلیفہ وقت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ختم نہیں ہو جا تا بلکہ اس کی تان آنحضرت ﷺ کے ساتھ عقد بیعت پر جا کر ٹوٹتی ہے۔آپ جب بیعت لیتے تھے تو خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق لفظ ” معروف کو شامل کر کے بیعت لیتے تھے۔پس کیا اس شخص کا اختیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہی نہیں، آنحضرت ﷺ کے فیصلوں پر بھی چلتا ہے؟ کیا وہ مختار ہے کہ وہ آپ کے بعض احکام کو معروف قرار دے کر مانے اور اور بعض کو غیر معروف قرار دے کر رڈ کر دے۔نعوذ باللہ ایسا اختیار اسے اس کے عقد بیعت سے تو لازماً نکال دیتا ہے لیکن وہ ان احکام اور فیصلوں کو ہرگز غیر معروف نہیں کرسکتا۔اگر یہ صورت ہو کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کے فیصلوں پر معروف اور غیر معروف کا اختیار نہیں رکھتا یا آپ کے فیصلوں پر معروف اور غیر معروف کی بحث اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتا تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے فیصلوں پر ایسا اختیار کس حق اور ہمت کی بناء پر