خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 282
بعد امت کے تمام دکھوں کے لئے ایک ہی شافی کا نسخہ ہے کہ خلافت کو اس دنیا میں پھر بحال کر دیا جائے وقت گزرتا جا رہا ہے۔ہمارے وہ محترم بھائی جو آج کسی نہ کسی طور امت کی قیادت پر متمکن ہیں اور دورِ جہالت کے سرداروں کی طرح باہم دگر رہتے ہیں، خلافت کو بحال کرنے کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔پھر قائدانہ مناصب پر ہوتے ہوئے ان کے لئے بحالی خلافت کا کام قدرے آسان بھی ہے۔لہذا وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے سے پہلے اگر یہ کام کر جائیں تو انشاء اللہ قیامت کے دن اپنے رب کے ہاں سرخرو ہوں گے“ (ماہنامہ ” سبق پھر پڑھے “۔جلد ۲، شماره ۸ ،صفحه ۱۶ ، اگست ۱۹۹۲ء) قارئین ! ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے ایک تو یہ بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دورِ جہالت کے قبائلی سرداروں کو ایک خلیفہ کے ہاتھ پر جمع کر دیا تھا اور دوسری بات یہ کی ہے کہ مختلف ملکوں میں آج کے مسلمان حکمران بعینہ دور جہالت کے قبائلی سرداروں کی طرح ہیں۔دیکھیں کہ اب گنگا کس طرح الٹی بہتی ہے۔اس وقت رسول اللہ صلی علیہ وسلّم نے خلافت قائم فرمائی تھی اور اس کے ساتھ سرداروں کو منسلک کر دیا تھا اور آج یہ صاحب دورِ جہالت کے قبائلی سرداروں کی طرح کے حکمرانوں کے سپر دوہ کام کر رہے ہیں جو آنحضرت ا لیکم نے کیا تھا۔اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ دور جہالت کے قبائلی سرداروں کی طرح کے حکمرانوں کی قائم کردہ خلافت کیسی ہوگی ! کیا وہ انوار و برکاتِ رسالت سے لبریز اس خلافت کی طرح ہو سکتی ہے جو آنحضرت ﷺ کی تیار کردہ زمین پر قائم ہوئی تھی۔جو خلافت نبوت کی سرزمین سے ابھرتی ہے وہی خلافت حقہ ہے جو علی منہاج النبوة ہے اور جو چیز دور جہالت جیسی سرداری کی کوکھ سے جنم لے گی اسے چاہے کچھ نام دے دیں ، جہالت اور قبائلی تفاخر کا ہی مرتب ہو گی۔ان کی تمنا یہ ہے کہ اس مرکب کو خلافت سے تعبیر کر کے امت میں رائج کر دیا جائے۔پس ان کی یہ سوچ ہی جاہلانہ ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں: