خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 281 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 281

۲۷۷ معرض وجود میں آجانا دوسرا بڑا موڑ (Turning Poin) تھا۔66 (ماہنامہ " سبق پھر پڑھ " جلد ۲، شماره ۸ صفحه ۱۲ اگست ۱۹۹۲ ء مدیر مسئول، چوہدری رحمت علی۔اچھرہ ، لاہور : مرکزی تبلیغ اکیڈمی) پھر وہ آگے جا کر مزید لکھتے ہیں : دو حیرت و تأسف تو اس بات پر ہے کہ آج کی دنیا میں صرف کفار و مشرکین ہی طاغوتی نظاموں کی سر پرستی نہیں کر رہے مسلمان بھی خلافت سے منہ موڑ کر ایسی ہی من مرضی کی حکومتیں رواں دواں رکھے ہو ئے ہیں۔اس میں کیا شک ہے کہ قرآن وسنت کے مطابق پوری اسلامی دنیا کا صرف ایک ہی خلیفہ (سربراہ) ہوسکتا ہے۔ہمارا مسلم دنیا کو مصنوعی بلکہ سازشی لکیروں سے تقسیم کر کے یہ درجنوں خود مختار مملکتیں معرض وجود میں لے آنا دین حق سے بر ملا روگردانی ہے اس وقت پوری امت پر ایک خلیفہ کے بجائے جو درجنوں سربراہان مسلط ہیں شعوری یا غیر شعوری طور پر سب غصب کرده پوزیشنوں پر قابض ہیں۔قرآن اور سنت کی رو سے انہیں اس طور حکمرانی کرنے کا کوئی حق و جواز حاصل حقیقت ان تمام حکمرانوں نے وہی شکل اختیار کر رکھی ہے جو دور جہالت میں قبائلی سرداروں نے اختیار کر رکھی تھی اور جن سے اقتدار چھین کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے ایک خلیفہ کے سپرد کیا تھا۔قرآن وسنت سے ہماری یہ بڑی روگردانی اس ذلت اور رسوائی کا باعث بنی ہوئی ہے جس سے اس وقت امت مسلمہ دو چار ہے۔حل ایک ہی ہے کہ خلافت کی گاڑی جہاں پڑی سے اتری تھی وہیں سے اسے پھر پٹڑی پر ڈال دیا جائے۔واضح اور دوٹوک تشخیص کے