خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 274
اس خلافت کی سر پرستی اور حفاظت ہوتی ہے جو بنوت کے ذریعہ مومنوں کے دل میں قائم ہوئی ہوتی ہے۔پھر خدا تعالیٰ اس خلیفہ کے ذریعہ جماعت مومنین کو انوار نبوت سے فیضیاب کرتا ہے۔پس مومنوں کی اس جماعت میں اس نہج پر ایک خلیفہ کے ذریعہ خلافت کا نظام جاری ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید اور اس کے جملہ وعدے اس خلافت کے حق میں پورے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس کسی سیاسی عمل سے خلافت کا قیام نہ صرف یہ کہ ناممکن ہے بلکہ سرے سے ہی ایک احمقانہ خیال ہے۔کیونکہ کوئی سیاسی عمل نہ مومن پیدا کر سکتا ہے نہ کسی کو ایمان اور عمل صالح پر قائم کر سکتا ہے۔پس احیائے خلافت کی نام نہاد تحریکات میں جب یہ پہلی شرط ہی قرار نہیں پکڑتی تو کسی دوسرے خود ساختہ طریق پر خلافت کے قیام کی بات کرنا عبث ہے۔خدا تعالیٰ کی خلافت کی عمارت ایمان اور اعمالِ صالحہ کی مضبوط بنیاد پر استوار ہوتی ہے۔لہذا یہ ناممکن ہے کہ ایک غیر روحانی سیاسی عمل لوگوں کے دلوں میں ایمان قائم کر سکے پھر یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ ان میں خلافت قائم ہو سکے۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی سیاسی عمل سے کسی شخص کو سر براہ تسلیم کر کے اسے خلیفہ کا نام دے دیا جائے لیکن ایک جنس کو دوسری کا نام دے دینے سے اسے دوسری جنس نہیں بنایا جا سکتا۔مثلا کرسی کو میز قرار دینے سے وہ میں نہیں بن سکتی، اس کا نام جو چاہیں رکھ دیں مگر کرسی کرسی ہی رہے گی۔سڑک کو نہر کہہ دینے سے وہ بہنے نہیں لگ جائے گی۔اس کا تصور ، مقصد اور مصرف وہی رہے گا جو اس کا ہے۔بعینہ کسی حکمران ، بادشاہ یا صاحب اقتدار شخص کو خلیفہ قرار دینے سے نہ خلافت کی شرائط اس میں پوری ہوسکتی ہیں نہ اس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں ایمان اور عمل صالح کا قیام ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس عمل سے خدا تعالیٰ پابند ہوسکتا ہے کہ وہ خلافت کے لئے اپنے تائید ونصرت کے وعدہ کو اس سیاسی حکمران کے لئے پورا فرمائے۔لہذا وہ شخص صاحب اقتدار تو ہوسکتا ہے ، خلیفہ نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کا نصرت اور تائید کا وعدہ تو اس خلیفہ سے ہے جسے وہ خود قائم کرتا ہے اور ان لوگوں سے ہے جن میں وہ خود خلافت قائم کرتا ہے، اس حکمران سے نہیں ہے جسے بعض سیاسی یا سیاسی نماند ہی تحریکوں نے قائم کیا ہو۔پس اگر خلافت کے قیام کے لئے روحیں بے چین اور دل