خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 268
۲۶۴ مأمورین اور پاک بندے روح کا فرگری کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اس کی کہ ہے وہ دور تر از صحن یار کیا تماشا ہے کہ میں کافر ہوں تم مومن ہوئے پھر بھی اس کا فر کا حامی ہے وہ مقبولوں کا یار براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۳۳) خاص طور پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں اس وجہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مجد دالف ثانی تحریر فرماتے ہیں : وو علمائے ظواہر مجتہدات اور اعلی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام از کمال دقت و غموض ما خذ ا نکار نمائند و مخالف کتاب وسنت دانند 66 (مکتوبات دفتر دوم حصه هفتم صفحه ۱۴ مکتوب ۵۵) کہ اس مسیح و مہدی کا علم اس قدر گہرا اور وسیع ہوگا اور عرفان اس قدر بلند ہوگا کہ علمائے ظاہر نہ اس علم کی تہہ تک پہنچ سکیں گے نہ اس عرفان کی بلندیوں کو چھو سکیں گے لہذا ہمارے نبی کریم م کے بارہ میں آپ کے اجتہادات سے، ان کے ماخذ کے کمال دقیق اور گہرا ہونے کی وجہ سے انکار کر دیں گے اور ان کو کتاب وسنت کے مخالف جانیں گے۔ظاہر ہے کہ علمائے ظاہر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جو کفر کا فتوای جاری کیا اس کی وجہ آپ کا کوئی کفریہ عقیدہ وغیرہ نہیں تھا بلکہ آپ کے عرفان کی بلندی تھی جس تک ان کا فر گر علمائے ظاہر کی نظریں پہنچنے سے قاصر تھیں۔جو خود اللہ تعالیٰ سے دور اور عرفان و معرفت وغیرہ سے تہی دست تھے، لہذا انہوں نے آپ کو کا فرقرار دے دیا۔مگر ان کا فر گر علمائے ظاہر کے مقابل پر خدا تعالیٰ آپ کا موید و نصیر تھا اور وہ اس سے دور مہجور اور مردود تھے۔پس حضرت مجد دالف ثانی کا یہ پُر معرفت بیان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا اشعار آپ پر اور آپ کی جماعت پر فتاوی کفر کی وجہ اور اصلیت کی بڑی واضح اور روشن منظر کشی کرتے ہیں۔