خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 228
۲۲۵ حضور ۲۲ اگست ۱۹۸۳ء کو مشرق بعید اور آسٹریلیا کے دورہ کے لئے تشریف لے گئے اور اسی دورہ میں ۳۰ ستمبر ۱۹۸۳ ء کو آپ نے آسٹریلیا کے بلیک ٹاؤن شہر میں بیت الہدیٰ کا سنگ بنیاد رکھا اور اسے اس علاقہ میں اشاعت دین حق اور اشاعتِ قرآن کا بہت بڑا مؤثر ذریعہ قرار دیا۔اس دورہ سے ۱۴ ۷ اکتوبر ۱۹۸۳ء کو آپ واپس پاکستان تشریف لے آئے۔۲۶ را پریل ۱۹۸۴ء کو حکومت پاکستان نے جماعت کے خلاف آرڈینینس جاری کیا جس کے تحت جماعت کو اذان دینے ، اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے اور آزادانہ طور پر اپنے عقائد کو پھیلانے سے روک دیا گیا۔چنانچہ اشاعت دین کے کام کو رواں دواں رکھنے کے لئے ۱/۲۹ پریل ۱۹۸۴ء کو حضور ربوہ سے ہجرت کر کے برطانیہ تشریف لے گئے اور لندن میں قیام فرمایا۔حضور کی زیر ہدایت اور آپ کی رہنمائی میں ساری دنیا میں اشاعت انوار قرآنی اور شمع ہدایت کو روشن کرنے کا کام انتہائی شاندار طریق سے کامیابی کے ساتھ جاری وساری ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس عرصہ قیام میں جماعت احمدیہ پر برکات و انوار کی وہ بارش نازل کی ہے کہ جسے شمار کرنا مشکل ہے۔۱۹۸۹ء میں جواحد یہ صد سالہ جشن تشکر کا سال تھا ایک لاکھ آٹھ ہزار افراد حلقہ بگوش احمدیت ہوئے اور اس وقت یہ ایک ریکارڈ کامیابی تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کے با برکت دور میں ایک سال کے عرصہ میں عطا فرمائی ہے۔لیکن اس کے بعد اس طرح فتوحات کا شاندار سلسلہ جاری ہوا کہ ہر طرف سے لوگ افواج در افواج اور قبائل در قبائل جماعت میں داخل ہونے شروع ہوئے اور کروڑوں کی تعداد میں داخل ہوئے۔آپ کے دورِ خلافت میں حضرت مسیح موعود کے الہام کے مطابق کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے افریقہ کے علاقہ کے چار بادشاہ دائرہ احمدیت میں داخل ہو کر اس پیشگوئی کی سچائی کا مصداق بنے اور آپ کے دور میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ پورا ہوا۔اور وہ تنہا آواز جو ایک سو سال پہلے قادیان کی گمنام بہستی سے