خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 166 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 166

۱۶۳ حکیم نورالدین کی عمر ۶۷ سال تھی خلیفہ منتخب ہوئے۔قریبا بارہ سو افراد نے بیعتِ خلافت کی۔آپ نے شروع خلافت سے ہی واعظین سلسلہ کا تنقر رفرمایا۔شیخ غلام احمد صاحب، حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی، حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اولین واعظ مقرر ہوئے جنہوں نے ملک کے طول و عرض میں پھر کر خدمات سرانجام دیں، بے شمار تقاریر کیں ،مباحثات کئے اور متعد دمقامات پر جماعتیں قائم کیں۔آپ کے دور خلافت میں ۱۹۰۹ ء گرلز سکول اور اخبار ” نور“ کا اجراء ہوا۔نیز مدرسہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔1910ء میں بیت نور کی بنیا درکھی گئی۔اسی طرح مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور اس کے بورڈنگ کی بنیاد رکھی گئی۔مسجد اقصیٰ کی توسیع ہوئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب خلیفہ المسیح الثانی کی کوششوں سے انجمن انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا اور اخبار الفضل جاری ہوا۔۱۹۱۳ ء میں یورپ میں سب سے پہلا احمد یہ مشن قائم ہوا۔آپ " کا عظیم الشان کارنامہ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے خلافت کے نظام کو مضبوطی سے قائم کر دیا اور خلافت کی ضرورت اور اہمیت کو بار بار جماعت کے سامنے پیش کر کے اس عقیدہ کو جماعت میں راسخ کر دیا کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے۔انسانی منصوبوں سے کوئی شخص خلیفہ نہیں بن سکتا۔خلافت کے الہی نظام کو مٹانے کے لئے منکرین خلافت نے جوفتنہ وفساد برپا کیا اور لوگوں کو ورغلانے اور اپنا ہم خیال بنانے کی جو کارروائیاں کیں ، آپ نے ان کا تارو پود بکھیر دیا۔آپ نے مختلف اوقات میں بیعت کی اہمیت اور مقام خلافت کے متعلق ارشادات فرمائے۔چنانچہ آپ نے ایک دفعہ فرمایا: میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا کسی انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنایا کس نے؟ بار ہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” إِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيْفَةٌ“اس