خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 150
۱۴۸ انصرام منظم اور مضبوط بنیادوں پر قائم فرمایا۔عدلیہ کا با قاعدہ نظام قائم فرمایا۔وغیرہ وغیرہ تعمیرات اور نئی آبادیاں : آپ کے دور میں بہت سی نئی تعمیرات ہوئیں۔مکہ اور مدینہ کے درمیانی راستہ کو چوکیوں، پانی کی سبیلوں اور مسافروں کے قیام کے لئے سرائے وغیرہ بھی بنوا کر آسان بنایا۔زراعت کے لئے نہریں کھدوائیں۔سڑکیں ، پل ہمسجدیں، فوجی چھاؤنیاں اور بیر کیں، مختلف علاقوں میں بیوت الاموال کی عمارتیں اور دیگر سرکاری عمارتیں بنوائیں۔اسی طرح کئی نئے شہر آباد کئے یا ان کی تعمیر نو کی۔ان میں سے بصرہ ، کوفہ، فسطاط، موصل، حبیزہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔آپ نے کاجھ میں حدود حرم پر نصب شدہ سب نشانوں کی تجدید بھی کروائی۔مذہبی امور دیگر مذہبی امور میں دین اور شریعت کے احکام کا نفوذ ، سنت رسول کی تعمیل ، اشاعت اسلام کے کاموں کی توسیع ، عدل اور عدالت کا قیام علم وفضل کی ترویج وغیرہ آپ کے عہد کے زریں کارناموں میں سر فہرست ہیں۔فتوحات آپ کے عہد خلافت میں فتح عراق کی تکمیل ہفتوحات ایران ،فتوحات شام، فتوحات مصر اور بعض دیگر علاقوں کی فتوحات بھی ہوئیں۔شہادت: فیروز نامی ایک پارسی غلام نے ۲۸ ذوالحجہ ۲۳ھ کو نماز فجر کے دوران آپ پر قاتلانہ حملہ کر کے آپ کو شدید گھائل کر دیا۔جس کے تین دن بعد یعنی یکم محرم بروز ہفتہ ۲۴ھ کو آپ جامِ شہادت نوش کر گئے۔آپ کا عہد خلافت تقریباً دس سال سات ماہ پر مشتمل تھا۔خلافت کمیٹی کا قیام قاتلانہ حملہ کے بعد آپ گواندازہ تھا کہ آپ اس سے جانبر نہ ہوسکیں گے۔لہذا آپ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لئے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم پر مشتمل ایک کمیٹی ترتیب دی۔