خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 140
۱۳۸ سفارش تھی کہ آپ کے اس قول کی وجہ سے مہاجرین میں سے کسی کو خلافت سونپنا واجب ہو چکا تھا۔بلکہ یہ ایک پیشگوئی تھی جو آپ نے خدا تعالیٰ سے خبر پا کر کی تھی اور اس پیشگوئی کو مہاجرین کے حق میں سچ ثابت ہونا لازم تھا۔پس پیشگوئی پر مبنی ہونے کی وجہ سے آپ کا یہ فرمان کسی اعتراض کا ہدف نہیں بن سکتا۔یہ پیشگوئی کن حکمتوں پر استوار تھی؟ ایک ظاہری جائزہ سے اس کی حسب ذیل وجوہات سامنے آتی ہیں۔ا۔ملہ عرب کا مرکزی شہر تھا اور علم توحید (خانہ کعبہ ) بھی یہیں پر تھا جس کے متولی قریش تھے۔لہذا مذ ہبی لحاظ سے بھی ان کو دیگر قبائل پر فوقیت حاصل تھی۔اس لئے دور و نزدیک کے دیگر قبائل قریش کے پاس تابعدارانہ حیثیت میں آتے رہتے تھے۔اس زمانہ میں قریش ہی ایک ایسا قبیلہ تھا جو عرب میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل تھا۔فتح مکہ کے اثرات کے سلسلہ میں قبل ازیں یہ لکھا جاچکا ہے کہ قریش کی ممتاز حیثیت کی وجہ سے دیگر قبائل ان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے کہ وہ اسلام قبول کریں تو ان کے پیچھے دیگر قبائل بھی اسلام میں داخل ہوں گے۔اس کے علاوہ متعدد شواہد ہیں جو قریش کی ممتاز حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔پس ان کے پیچھے چلنے میں کسی کو عار نہیں تھی۔بلکہ وہ اس کی راہنمائی کو قبول کرتے تھے۔۔اس کی ممتاز حیثیت اس وجہ سے بھی تھی کہ یہ قبیلہ آنحضرت ٹیم کا اپنا قبیلہ تھا۔آپ کی وجہ سے اس کی ایک امتیازی عزت اور غیر معمولی عظمت قائم ہو چکی تھی۔۴۔قریش کے مورث اعلیٰ قصی بن کلاب نے حکومت کا جو نظام قائم کیا تھا اس کی وجہ سے قریش دیگر قبائل کی نسبت ملکی نظام و انصرام چلانے کی زیادہ صلاحیت رکھتے تھے۔ان اوصاف میں ان سے زیادہ ماہر عرب میں کوئی دوسرا قبیلہ نہیں تھا۔۔سب سے زیادہ نمایاں وجہ یہ تھی کہ آنحضرت م پر سب سے پہلے ایمان لانے والے مہاجرین تھے۔انہوں نے ایک لمبا عرصہ آنحضرت ام کی صحبت اور تربیت پائی تھی۔قربانیوں کی پیشکش میں بھی یہ دیگر مسلمانوں سے سبقت رکھتے تھے تعلیم قرآن وسنت میں بھی یہ دوسروں سے