خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 3
ابتدائے عقیدت خلافت حقہ کے بارہ میں مختلف زاویہ ہائے نگاہ سے مسعد دمضامین لکھے گئے ، پڑھے گئے، دوہرائے گئے اور شائع کئے گئے اور یہ سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا کیونکہ سلسلۂ خلافت بھی جاری ہے ،اس کے ساتھ ساتھ اس کا فیض بھی دائمی ہے اور اس کے ذریعہ برکات و انوار نبوت کا انعکاس بھی ہمیشہ کے لئے درخشندہ ہوتا ہاں ہے۔حضرت المصلح الموعود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت کے مبلغین کو اور دیگر صاحب علم لوگوں کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ وہ خلافت کے مقام،حقیقت، اہمیت ،عظمت اور برکات کو بار بار جماعت کے سامنے پیش کرتے رہا کریں۔چنانچہ آپ نے فرمایا : در مبلغین اور واعظین کے ذریعہ بار بار جماعتوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی رہے کہ پانچ روپے کیا، پانچ ہزار روپیہ کیا، پانچ لاکھ روپیہ کیا، پانچ ارب روپیہ کیا ، اگر ساری دنیا کی جانیں بھی خلیفہ کے ایک حکم کے آگے قربان کر دی جاتی ہیں تو وہ بے حقیقت اور نا قابل ذکر چیز ہیں۔۔۔۔۔۔اگر یہ باتیں ہر مرد، ہر عورت ، ہر بچے ، ہر بوڑھے کے ذہن نشین کی جائیں اور ان کے دلوں پر ان کا نقش کیا جائے تو وہ ٹھوکریں جو عدم علم کی وجہ سے لوگ کھاتے ہیں کیوں کھائیں۔۔۔۔۔۔پس سب سے اہم ذمہ داری علماء پر عائد ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری جماعت کے علماءلوگوں کو تیار کر سکتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی جن کو خدا تعالیٰ نے علم و فہم بخشا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی خشیت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور الہی محبت کے حاصل کرنے کی خواہش اپنے قلوب میں پاتے ہیں لوگوں کو اس رنگ میں تیار کر سکتے ہیں اور ان کے