خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 137 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 137

۱۳۵ پڑھایا کریں۔پس آپ ہی خلیفتہ اللہ ہیں۔ہم آپ کی بیعت اس لئے کرتے ہیں کہ آپ رسول اللہ علیم کے ہم سب میں سے زیادہ محبوب ہیں۔“ (صحیح بخاری کتاب الحدود ما حذر من الحدود باب رجم الحبالى من الترفى اذا أحصنت و ابن اثیر حدیث السقيفة وخلافته ابی بکر وارضاه وابن سعد ذکر امر رسول الله أبا بكر أن يصلى بالناس في مرضه والسيرة الحلبية ) یہ اسی دن کا واقعہ ہے جس دن رسول اللہ علیم کا وصال ہوا۔یعنی ۲۶ مئی ۷۳۲ء بمطابق یکم ربیع الاول لا ھے۔حضرت عمرؓ کے بعد حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے بیعت کی تو انصار میں سے حضرت بشیر بن سعد نے فوراً بیعت کر لی۔اس کے بعد حضرت زید بن ثابت انصاری نے بیعت کی اور حضرت ابو بکر کا ہاتھ تھام کر انصار سے مخاطب ہوئے اور انہیں بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کرنے کی ترغیب دی۔چنانچہ انصار نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کی۔یہ بیعت تاریخ اسلام میں اور اسلامی لٹریچر میں بیعت سقیفہ اور بیعت خاصہ کے نام سے بھی مشہور ہے۔قیام خلافت کے لئے آراء کے اعتبار سے صحابہ کے تین گروہ اس ساری بحث سے یہ منظر کھل جاتا ہے کہ آنحضرت نہ کی وفات پر صحابہ اس اصول پر متفق تھے کہ خلافت کا قیام امتِ مسلمہ کے لئے لابدی ہے۔اس کے لئے ایک ایسا واجب الاطاعت امام ہونا ضروری ہے جو آنحضرت دال کے چلائے ہوئے سلسلہ کو قائم ودائم اور جاری وساری رکھے۔لیکن باوجود اس اصول پر قائم ہونے کے، وہ ابتداء میں اس کی جزئیات میں مختلف آراء ر کھتے تھے۔تفرقہ اور دیگر خطرات سے بچنے کے لئے اور اسلام کی پیش قدمی کے لئے بہترین سوچ جو وہ سوچ سکتے تھے ،انہوں نے سوچی۔اس لحاظ سے اس ماحول میں صحتمند آراء کا اختلاف اور دلائل کی پیشکش کا ہونا ضروری تھا۔بہر حال مجموعی تجزیہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مذکورہ بالا خیال کہ ایک امیر انصار میں سے اور ایک مہاجروں میں سے ہو، ایک رائے تھی جو آنحضرت ام کے وصال کے باعث پیدا شدہ خلا کو کسی حد تک پُر کرنے کے لئے فوری ضرورت کے طور پر سامنے آئی تھی۔اس