خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 128 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 128

۱۲۶ نئے چاند کا طلوع شمس الہدی، سراج منیر، ہمارا آقا ومولیٰ ﷺ اپنے اعلیٰ وارفع افق میں چھپ چکا تھا اور وقتی طور پر ماحول ایک تاریکی میں ڈوب رہا تھا کہ اس تاریکی کے سایوں کو اڑا تا ہوا اسی افق سے صدیقیت کا نور لے کر ایک نیا چاند ابھرا۔اس نے اس آفتاب عالمتاب کی ضوفشانیوں کو منعکس کر کے آنا فانا ماحول کو پھر بقعہ نور بنا دیا۔یہ چاند خلافت راشدہ کی قبا میں حضرت ابوبکر صدیق کا وجودِ باجو د تھا۔آنحضرت ام کے ایام علالت میں حضرت ابوبکر مسجد نبوی میں نماز کی امامت کرتے تھے۔آپ کے معمولات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ زیادہ دیر مسجد میں نہ ٹھہر تے تھے۔غالباً اس کی ایک وجہ تو ی تھی کہ آنحضرت ﷺ کی علالت کے باعث مسجد میں دردو غم کا المناک ماحول تھا جس میں آپ کے لئے ٹھہرنا جذباتی لحاظ سے اور وفور عشق کے باعث دشوار تھا اور دوسرے یہ کہ آنحضرت ام کی عدم موجودگی میں لوگوں کی نظریں آپ کی طرف اٹھتی تھیں۔آپ اس صورتحال سے گریز کرتے گھا تھے۔لہذا نماز پڑھانے کے بعد جلد از جلد وہاں سے رخصت ہو جانے کی کوشش کرتے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق اس قدر گداز دل اور حلیم الطبع تھے کہ آنحضرت ام کی جگہ نماز پڑھاتے ہوئے اس قدر رو رو پڑتے تھے حتی کہ آپ کی بھکھی بندھ جاتی تھی۔دیگر تمام صحابہ کے ہمراہ آپ کی بیٹی حضرت عائشہ آپ کی اس حالت کی گواہ تھیں اور رسول اللہ ﷺ کے حضور سفارش کرتی تھیں کہ آپ حضرت ابو بکر صدیق کی بجائے حضرت عمر فاروق کو نماز پڑھانے کا فریضہ سونپ دیں کیونکہ رقت کے باعث ان کے لئے نماز پڑھانا عملاً مشکل ہے۔آنحضرت ام غار ثور میں خدا تعالیٰ کے وعدہ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ، میں اللہ تعالیٰ کی اس معیت میں اپنے ساتھ حضرت ابوبکر گوشریک فرما چکے تھے اور حضرت علی کی ایک روایت کے مطابق اُسی ہجرت کے سفر میں ہی حضرت جبریل سے خبر پا کر حضرت ابو بکر کی خلافت کی پیشگوئی بھی فرما چکے تھے۔اندرونی حکمتیں تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے بعد زمام امت سنبھالنے والے کو مضبوط کرنے کے لئے اور اس