خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 113 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 113

۱۱۲ مسلمہ پر کوئی صدی، کوئی سال، کوئی وقت مجد د سے خالی نہ رہے گا۔یعنی خلافت اپنی جملہ برکتوں اور فضلوں کے ساتھ اسلام کی پاسبانی اور ترقی کی ضامن رہے گی۔انشاء اللہ العزیز اللہ ہمیشہ ہی خلافت رہے قائم احمد کی جماعت میں یہ نعمت رہے قائم ہر دور میں یہ نو ریبوت رہے قائم يفضل ترا تا بقیامت رہے قائم جب تک کہ خلافت کا یہ فیضان رہے گا تجدید ایمان ہر دور میں ممتاز مسلمان رہے گا خلیفہ راشد ہر مومن کے دین اور ایمان کی تجدید اس طرح بھی کرتا ہے کہ وہ مومنوں کے ایمان کو Renew کرتا ہے۔یعنی جب کبھی کسی کے ایمان میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور وہ خلیفہ وقت سے ہدایت و راہنمائی کا طلبگار ہوتا ہے تو اس خلیفہ وقت کی ہدایت و روشنی اس کے ایمان کی تجدید، تقویت اور جلا کا موجب ہوتی ہے۔اسی طرح جب منشائے الہی کے مطابق ایک خلیفہ راشد کا وصال ہوتا ہے تو اس کی جگہ قائم ہونے والا خلیفہ راشد تمام مومنوں کی بیعت کی ایک بار پھر تجدید کرتا ہے۔اسلامی اصطلاح میں دین اور ایمان کی تجدید کرنے والا مجد د ہوتا ہے۔شریعت کے حکم کے تحت خلیفہ کی بیعت ایک مومن کے ایمان کا جزو لازم ہے۔پس جب ایک مومن ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے تو وہ خلیفہ وقت سے اپنے ایمان کی تجدید کرواتا ہے اور خلیفہ اس کے ایمان کی تجدید کرتا ہے۔یہ بیعت ، یہ عمل تجدید ثابت کرتا ہے کہ موت کی جانشینی میں خلافت سے بڑھ کر مجد دیت کا اور کوئی تصور ممکن نہیں۔اجراء کے لحاظ سے خلافت اور مجددیت میں ایک لطیف فرق حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حسب ذیل اقتباس کا ایک حصہ پہلے بھی بیان کیا گیا تھا کہ خلیفہ تو خود مجد دسے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو دو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے۔پھر اس کی موجودگی میں مجد دکس طرح