خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی

by Other Authors

Page 110 of 465

خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 110

1+9 چھین نہیں سکتا، اسی طرح خدا کے قائم کردہ خلیفہ کو دنیا کی کوئی طاقت مسند خلافت سے نہیں اتار سکتی۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں بھی نعمت خلافت کی ناشکری کرنے والے جب پیدا ہوئے اور یہ کھنے لگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کی کوئی خاص ضرورت نہیں یعنی آپ کے خلیفہ اول کو ردائے خلافت اتار دینی چاہئے تو حضرت حکیم نورالدین خلیفہ امسیح الاول نے حضرت عثمان کی طرح بڑی تحدّی سے فرمایا : ” مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے۔۔۔۔خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔خدا تعالیٰ نے معزول کرنا ہوگا تو مجھے موت دے گا۔تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کر دوتم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے“۔(الحکم ۲۱ جنوری ۱۹۱۳ء) پس جس قدر بڑے معاملات تھے بڑے منصب کے مجد دین یعنی خلفائے راشدین نے حل کئے اور انہوں نے بدعات و بد رسومات کے بڑے بڑے طوفانوں کا مقابلہ کیا اور دین کی تجدید کی۔پھر ان کے بعد رخ اسلام سے بدعات کی گرد جھاڑنے کے لئے اولیاء اللہ کا ایک طویل سلسلہ چلا جس میں سے ہر ایک نے اپنی استعداد اور بساط کے مطابق تجدید دین کی۔بالآخر یہ سلسلہ بھی قریب الاختتام ہوا اور امت ضلال مبین میں مبتلا ہو کر آنحضرت ام کی حسب ذیل پیشگوئیوں کا نقشہ پیش کرنے لگی: "لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلا اِسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى عُلَمَاءُ هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ “ 66 (مقلوة كتاب العلم) کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف نقوش رہ جائیں گے، مسجدیں بظاہر آبا دیگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔لوگوں کے علماء آسمان تلے ہر مخلوق سے بدتر ہوں گے۔اور