خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 109
۱۰۸ عمر اور دوسرے صحابہ اس منطقی نتیجہ پر پہنچ گئے کہ محمد بھی ایک رسول ہیں لہذا آپ کے لئے بھی جان جانِ آفرین کے سپر د کر نا مقدر ہے بلکہ آپ معملاً اس تقدیر کے نیچے آچکے ہیں۔اسی طرح صحابہ نے حضرت ابو بکر کو مشورہ دیا کہ حالات کی نزاکت کے باعث وہ لشکر جو نبی اکرم نے تیار کیا تھا اسے روک دیں، یہ نہ ہو کہ دشمن بعد میں مدینہ پر حملہ کر کے اسلام کو نقصان پہنچائے۔اس موقع پر حضرت ابو بکڑ نے بڑے جلال سے فرمایا کہ اگر درندے ہماری لاشوں کو مدینہ کی گلیوں میں بھی گھسیٹتے پھریں تو بھی میں اس لشکر کی روانگی نہیں روک سکتا جس کو بھجوانے کا رسول اللہ لم نے ارشاد فرمایا ہو۔پس اگر حضرت ابو بکر یہ لشکر روک دیتے تو غیر محسوس طور پر یہ بدعت قائم ہو جاتی کہ رسول اللہ سلم کے احکام کو ٹالا جاسکتا ہے اور پھر احکام رسول سے اعراض کا مستقل جواز پیدا کر لیا جاتا اور نتیجہ یہ بدعت تعلیمات رسول کی ہیئت اور دین اسلام کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتی۔اسی طرح احکام شریعت کو ٹالنے کی ایک یہ رو بھی اٹھی کہ بعض قبائل نے از راہ بغاوت زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کر دیا تو حضرت ابوبکر نے بنیادی طور پر اس تحریک کو ختم کر کے رکھ دیا کیونکہ شریعت پر عمل کرنا ہر صاحب ایمان کے لئے ضروری ہے اور جو اسلام کا اقرار کرتا ہے، اُسے ارکانِ اسلام کا پابند ہونا ضروری ہے۔چنانچہ آپ نے اس اصولی موقف پر قائم ہو کر بڑے عزم سے فرمایا : لَوْ مَنَعُوْنِيْ عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ “ کہ اگر وہ مجھے زکوۃ میں ایک ریٹی تک دینے سے انکار کریں گے تو میں اس کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کروں گا۔پھر حضرت عثمان کے زمانہ میں منافقین نے خدا تعالیٰ کے قائم کردہ خلیفہ کو منصب خلافت سے اتارنے کا یہ مطالبہ کیا تو آپ نے اس گمراہ گن مطالبہ کو انتہائی استقلال سے رڈ کیا اور فرمایا: "ما كُنْتُ لِاخْلَعَ سِرْ بالا سِرْ بَلَنِيْهِ اللهُ تَعَالیٰ “ کہ ردائے خلافت جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے وہ میں ہرگز نہیں اتار سکتا۔تاریخ الطبرى ذكر الخبر عن قتل عثمان - ۳۵ھ) جس طرح نبوت خدا تعالیٰ کی ایسی عطا ہے کہ اسے دنیا کی کوئی طاقت یا حکومت نبی سے