خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 108
۱۰۷ جماعت اور آپ کے عہد میں قائم خلافت سے باہر نہیں ہوگا۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسح الثانی فرماتے ہیں: وو خلیفہ تو خود مجد دسے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکامِ شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے۔پھر اس کی موجودگی میں مجد دکس طرح آسکتا ہے۔ای طرح حضرت خلیلة اسمع الثالث نے فرمایا: ( الفضل ۸ /اپریل ۱۹۸۴ء) لفظ مجد دقرآن کریم میں کہیں موجود نہیں ہے۔دراصل مجد دوالی حدیث کی تفسیر آیت استخلاف میں مضمر ہے جس میں خلافت کے ساتھ تجدید دین کو وابستہ کر دیا گیا ہے۔الفضل نے رنومبر ۱۹۷۷ء) پس خلافتِ راشدہ کی موجودگی میں اس کے مقابل پر یا اس سے الگ کسی مجددیت کا تصو ركلميه غلط ، فضول اور عبث ہے۔تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جب بھی دینِ اسلام میں بڑی بدعات پیدا ہوئیں تو دراصل انہیں خلافتِ راشدہ نے ہی ختم کیا۔تمام بڑے بڑے بگاڑ خلافت کے ذریعہ ہی دور ہوئے۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جب شرک پھیلنے کا اندیشہ ہوا اور یہ گمان ہونے لگا کہ آنحضرت ﷺ فوت نہیں ہو سکتے اور آپ عارضی طور پر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں حتی کہ حضرت عمرؓ نے یہاں تک کہہ دیا کہ جو یہ کہے گا کہ آنحضرت یم فوت ہو گئے ہیں ، آپ اس کا سرتن سے جدا کر دیں گے۔اس صورت حال میں کسی کو جرات نہ تھی کہ حضرت عمر کی اس بات کو رڈ کر سکتا۔مگر آنحضرت کے جانشین بننے والے شخص حضرت ابو بکر نے اس وسوسہ کو الہی نصرت اور کمال جرأت کے ساتھ دور کیا اور قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کہ محمد صرف ایک رسول ہیں آپ سے قبل تمام رسول وفات پاچکے ہیں۔چنانچہ حضرت