خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 92
۹۱ مقام سے عروج فرمائے گی اور حقیقت کعبہ کے مقام میں ( رسائی پا کر اس کے ساتھ ) متحد ہو جائے گی۔اس وقت حقیقت محمدی کا نام حقیقت احمدی ہو جائے گا اور وہ ذات احد اللہ سلطانہ کا مظہر بن جائے گی۔اور دونوں مبارک نام ( محمد واحمد ) اس مسمی ( مجموعہ حقیقت محمدی و حقیقت کعبہ ) میں متحقق ہو جائیں گے اور حقیقت محمد مکی کا پہلا مقام ( جہاں وہ اس سے پہلے تھی ) خالی رہ جائے گا اور وہ اس وقت تک خالی ہی رہے گا یہانتک کہ حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلواۃ والسلام نزول فرمائیں۔اور نزول فرمانے کے بعد شریعت محمدمسی علیہما الصلوات والتسلیمات کے مطابق عمل فرمائیں۔اس وقت حقیقت عیسوی اپنے مقام سے عروج کر کے حقیقت محمد سمی کے اس مقام میں جو خالی چلا آ رہا تھا، استقرار پائے گی (یعنی قیام پذیر ہو جائے گی۔( مبدء و معاد مع اردو ترجمه ، نکته ۴۸ صفحه ۲۰۶،۲۰۵۔ناشر ادارہ مجددیہ ناظم آباد کراچی ۱۹۶۸ء) حضرت مجد دالف ثانی اس میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح خانہ کعبہ کی ظاہری عمارت،انسان کے ظاہری رُخ اور ظاہری توجہ کی سمت کو معین کرنے کا ذریعہ ہے اور تمام انسانوں کا اس کی جانب رخ کر کے سجدہ کرنا ان کے سجدہ کو ایک مرکزیت اور وحدت عطا کرتا ہے۔یہ رُخ ، توجہ اور سجدہ ایک ظاہری چیز ہے، حقیقت نہیں ہے۔اور مقام محمدی اصل میں رُخ کعبہ ہے۔جبکہ کعبہ کی حقیقت دراصل وراء الوراء ہے یعنی سر چشمہ تو حید ، ذاتِ باری تعالی ہے۔روح سجدہ کا رُخ اسی کی سمت ہوتا ہے۔یعنی سجدہ کی روح حقیقی اور رخ حقیقی در اصل ذات الہی ہے۔پھر آپ نے حقیقت محمد مکی اور اس کے عروج نیز اس کا حقیقت کعبہ سے اتحاد کا ایک خاکہ اور منظر پیش کیا ہے۔آپ نے جس طرح یہ منظر پیش فرمایا ہے، ظاہر ہے ایسا منظر کوئی اپنے تصوّ راور خیال سے بیان نہیں کر سکتا۔یہ لازما خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عطا کردہ لدنی علم تھا جس کو آپ نے بیان فرمایا ہے اور اپنے مرشد، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں بھی پیش کیا۔