خلافت ۔ روشنی صبح ازل کی — Page 93
۹۲ جسے انہوں نے بھی قبول فرمایا۔در حقیقت یہ ایک ایسی سچائی ہے جو حضرت مجددالف ثانی " پر خدا تعالیٰ نے روشن فرمائی اور اسے خود عملا متق فرمایا۔آپ اس منظر کشی میں آنحضرت ﷺ کے وصال سے ایک ہزار سال کے بعد اس واقعہ کے ظہور کا وقت بیان فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے ظہور سے قبل تک حقیقت محمد می اپنے مقام پر قائم ہوگی۔لیکن پھر وہ اپنے مقام سے عروج کرے گی اور حقیقت کعبہ یعنی ذات باری تعالیٰ سے متحد ہو جائے گی۔جس جگہ سے وہ عروج کرے گا وہ جگہ اس وقت تک خالی رہے گی جب تک مسیح موعود کا نزول نہیں ہو جاتا اور وہ اس حقیقت پر قائم نہیں ہو جاتے۔یعنی جب مسیح موعود نازل ہوں گے تو حقیقت محمدی پر قائم ہوں گے اور حقیقت محمدی مزید بلند اور رفیع ہو کر توحید حقیقی یعنی حقیقت کعبہ سے متحد ہو جائے گی۔یہ منظر سورۃ الجمعہ میں بیان شدہ آنحضرت لم کی دوسری بعثت سے بھی پوری مطابقت رکھتا ہے اور سورۃ النجم کی آیات ” دَنَى فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى “ سے بھی مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور کلمہ طیبہ کی تصویر کشی ہے۔آپ کے اس بیان کے مطابق ، اپنے عروج سے قبل جس ٹکنہ توحید پر آنحضرت نے کی ذاتِ والا صفات تھی ، وہ اب حقیقت عیسوی یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے نزول کی حقیقت ہے۔یعنی آپ اپنے مطاع آقا حضرت محمد مصطفی کم کے تابع ، امتی اور نقش پا پر قائم ہیں۔یہ مقام بلند حقیقت احمدی ہے جس کے مالک در اصل آنحضرت ام ہیں اور آپ ہی کی عطا ہے جو آپ ہی کے موعود مسیح کو نصیب ہوئی ہے۔۔پس اگر حقیقت محمدی اپنے مقام سے عروج کر کے حقیقت کعبہ سے متحد ہو جائے گی۔تو اس وقت حقیقت احمدی وہ مقام عالی ہو گا جو عروج سے قبل مقام حقیقت محمدی تھا اور وہ مقام مسیح موعود علیہ السلام کا جائے نزول ہے۔اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے بعد آپ کی خلافت بھی اسی تجلی معروج کے باعث خلافت راشدہ ہے جو آپ کے ظل۔میں علم توحید، آپ کی نبوت کے کمالات، انوار اور